’کشمیر اب بدل چکا ہے، اچھی ملازمت ملنے پر بھی نہیں جاؤں گا‘

کولگام میں مغربی بنگال کے جو 6 مزدور دہشت گردوں کا نشانہ بنے ان کے نام قمرالدین، ظہیر الدین شیخ، رفیق شیخ، نظام الدین شیخ، رفیق الشیخ اور مرسلین شیخ ہیں۔ ان سبھی کے گھروں میں اب بھی ماتم پسرا ہوا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کشمیر کے کولگام میں مغربی بنگال واقع مرشد آباد کے 5 مزدوروں کا قتل جب شورش پسندوں نے کیا تو مقتول کے اہل خانہ کو تو جیسے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔ پھر بعد میں ایک زخمی مزدور کے انتقال کی خبر بھی سامنے آ گئی۔ کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی مہلوک سبھی مسلم مزدوروں کے گھر والے یہ سوچ کر حیران ہیں کہ آخر یہ سب کیسے ہو گیا۔ ایک مہلوک قمرالدین کے بڑے بھائی 34 سالہ ساحر کئی بار کشمیر جا کر مزدوری کا کام کر چکے ہیں، وہ پھر کشمیر جانا چاہتے تھے، لیکن یہ ارادہ انھوں نے ترک کر دیا ہے۔ وہ ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے نمناک آنکھوں سے کہتے ہیں کہ ’’ہم نے کئی دہشت گردانہ حملے دیکھے ہیں، لیکن انھوں نے مزدوروں کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ اس بار کیا ہو گیا؟ حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کشمیر اب بدل چکا ہے۔ اچھی ملازمت ملنے پر بھی اب ہم وہاں نہیں جائیں گے۔‘‘

29 اکتوبر کو کولگام میں شورش پسندوں کا شکار قمرالدین اور دیگر پانچ مزدوروں کے اہل خانہ کی تقریباً ایک جیسی حالت ہے۔ قمرالدین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک مہینے پہلے ہی کشمیر روزگار کی تلاش میں گیا تھا اور مزدوری کرنا شروع بھی کر دیا تھا۔ مرشد آباد کے بہل نگر گاؤں میں رہنے والے قمرالدین کی بیوہ روشن آرا بی بی کہتی ہیں کہ ’’وہ 3 اکتوبر کو کشمیر گئے تھے۔ انھوں نے سوچا تھا کہ سیب اور دھان کی کٹائی کے موسم میں ان کی کمائی مقامی جگہ کے مقابلے کشمیر میں دوگنی ہو جائے جس سے بیٹی رحیمہ کا علاج ہو سکے گا۔‘‘ دراصل قمرالدین کی بیٹی رحیمہ گردے کی بیماری میں مبتلا ہے، لیکن والد کی موت کے بعد ایسا لگ رہا ہے جیسے سب کچھ اجڑ گیا۔


دہشت گردانہ حملے میں قمرالدین کے علاوہ جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان کے نام ظہیر الدین شیخ، رفیق شیخ، نظام الدین شیخ، رفیق الشیخ اور مرسلین شیخ ہیں۔ 52 سالہ رفیق شیخ اپنے گھر میں تنہا کمائی کرنے والے فرد تھے۔ وہ گزشتہ 20 سالوں سے کشمیر میں کام کر رہے تھے اور کبھی دہشت گردوں کے ذریعہ مزدوروں پر حملہ ہوتے نہیں دیکھا۔ گزشتہ پیر کے روز جب انھوں نے اپنی بیوی سمیرن بی بی سے آخری بار بات کی تو انھوں نے کہا تھا کہ کام پورا ہو چکا ہے اور گھر جلد واپسی ہوگی۔’جن ستّا‘ ہندی نیوز پورٹل سے سمیرن بی بی نے کہا کہ ’’اب وہ کبھی واپس نہیں لوٹیں گے۔ ہماری تین بیٹیاں ہیں۔ ان میں سے دو کی شادی ہو چکی ہے لیکن تیسری سسرال میں کچھ پریشانیوں کی وجہ سے ہمارے ساتھ ہی رہتی ہے۔ ان کی (رفیق کی) ماں بھی ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ لیکن میں اب کیا کروں گی؟‘‘

ظاہر ہے کہ سبھی ہلاک مزدوروں کے گھروں میں ماتم کا ماحول ہے اور انھیں اپنا مستقبل تاریک بھی نظر آ رہا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مرشد آباد کے جس بہل نگر گاؤں سے ان مزدوروں کا تعلق ہے، وہاں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ رہتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ گھر کا اہم کمائی کرنے والا شخص دہشت گردی کا شکار ہو گیا ہے تو گھر والوں کا پریشان ہونا لازمی ہے۔ ایک مہلوک رفیق الشیخ کے بھائی شفیق الشیخ کا کہنا ہے کہ ’’میں کئی بار کشمیر گیا ہوں، لیکن کبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ شورش پسند کبھی کبھی آتے تھے اور ہمیں دھمکاتے بھی تھے لیکن انھوں نے کبھی ہم پر حملہ نہیں کیا۔ لیکن اس سال جب سے خصوصی ریاست کا درجہ چھینا گیا ہے، تب سے حالات بدل گئے ہیں۔‘‘ شفیق الشیخ نے مزید کہا کہ ’’ہر سال 300-250 سے مزدور کشمیر جاتے تھے، لیکن اس سال یہ تعداد گھٹ کر 60-50 رہ گئی۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 31 Oct 2019, 6:11 PM