کشمیر: ہڑتال اور بند کا 66 واں دن، کالج کھل گئے لیکن درس و تدریس کا عمل بحال نہ ہو سکا

صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان کی طرف سے وادی کے کالجوں میں بدھ کے روز درس وتدریس کا عمل بحال ہونے کا اعلان بھی محض اعلان تک ہی محدود رہا کیونکہ کالجوں میں طلبا کہیں بھی نظر نہیں آئے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی منسوخی اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں تبدیل کرنے کے خلاف وادی میں بدھ کے روز مسلسل 66 ویں دن بھی معمولات زندگی مفلوج رہ کر جوں کی توں صورتحال سایہ فگن رہی۔ وادی کے شہر و قصبہ جات کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں دن بھر الو بولتے رہے، تمام دکانیں و دیگر تجارتی سرگرمیاں بند رہیں، سرکاری اداروں میں کام کاج متاثر رہا اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر غائب رہا تاہم نجی ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل جاری رہی۔

ادھر صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان کی طرف سے وادی کے کالجوں میں بدھ کے روز درس وتدریس کا عمل بحال ہونے کا اعلان بھی محض اعلان تک ہی محدود رہا کیونکہ کالجوں میں عملے کو تو موجود دیکھا گیا لیکن کلاس روموں میں طلبا کہیں بھی نظر نہیں آئے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے بیشتر کالجوں میں بدھ کے روز لگاتار 66 ویں روز بھی درس وتدریس کا عمل معطل رہا اگر چہ کالجوں میں اکا دکا طلبا کو دیکھا گیا لیکن وہ کلاسز لینے کے بجائے دوسرے غیر تدریسی کاموں کو انجام دینے کی غرض سے اپنے اپنے کالجوں پر حاضر ہوئے تھے۔

کشمیر: ہڑتال اور بند کا 66 واں دن، کالج کھل گئے لیکن درس و تدریس کا عمل بحال نہ ہو سکا

یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے بدھ کی صبح سری نگر کے بعض کالجوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ کالجوں میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ حاضر تھا لیکن طلبا کہیں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض کالجوں بالخصوس ایس پی کالج کے باہر سی آر پی ایف اہلکار تعینات تھے جبکہ احاطوں میں بھی سی آر پی ایف اہلکار ڈیرا زن تھے۔ موصوف نامہ نگار نے کہا کہ بعض کالجوں میں اکا دکا طلبا کو کالج میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا لیکن جب ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم پڑھنے کے لئے نہیں غیر تدریسی کام انجام دینے کی غرض سے آئے ہیں۔

طلبا کے ایک گروپ نے یو این آئی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال ہمارے تعلیمی مستقبل کے لئے نشتر ثابت ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا: 'ہم دو مہینوں سے لگاتار گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں، تعلیمی سرگرمیاں مسلسل معطل ہیں، ہم نے نصاب کا نصف حصہ بھی مکمل نہیں کیا ہے، لیکن ہم امتحان دینے کے لئے تیار ہیں کیونکہ ہماری گریجویشن کی ڈگری کافی طول پکڑ رہی ہے تین برسوں میں مکمل ہونے والی ڈگری شاید پانچ سال بیت جانے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہوگی'۔

کشمیر: ہڑتال اور بند کا 66 واں دن، کالج کھل گئے لیکن درس و تدریس کا عمل بحال نہ ہو سکا

ایک کالج کے ایک استاد نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر یو این آئی اردو کو بتایا کہ طلبا یہاں امتحانوں و دیگر معاملات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوتے ہیں لیکن کلاس لینے کے لئے کوئی طالب علم حاضر ہی نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کالجوں میں بھی تعلیمی ماحول مفقود ہے اور غیر یقینی صورتحال کے باعث طلبا اور اساتذہ بھی پریشان ہیں۔ فیاض احمد نامی ایک والد نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو کالج یا اسکول بھیجنے میں ہچکچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا: 'والدین بچوں کو اسکول بھیجنے میں ہچکچاتے ہیں، بچے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ رابطہ منقطع ہوجاتا ہے جس کے باعث والدین پریشان ہوجاتے ہیں'۔ دریں اثنا وادی میں معمولات زندگی کا بالکل وہی حال ہے جو پانچ اگست کو مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کو دو وفاقی یونٹوں میں تقسیم کرنے کے روز تھا، تمام تر مواصلاتی ذرائع پر پابندی بدستور جاری ہے اور سیاسی قائدین لگاتار نظر بند ہیں۔ سڑکوں پر اگرچہ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل ہے تاہم نجی ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل اس قدر جاری ہے کہ کئی علاقوں میں ٹریفک جام بھی ہوجاتا ہے۔

کشمیر: ہڑتال اور بند کا 66 واں دن، کالج کھل گئے لیکن درس و تدریس کا عمل بحال نہ ہو سکا

دکاندار اگرچہ بعض علاقوں میں شام کے وقت اور بعض علاقوں میں علی الصبح دکان کھولتے ہیں لیکن آفتاب کی روشنی گزشتہ دو ماہ سے دکانوں کے شٹر ہی دیکھتی ہے اور دکانوں میں موجود مال واسباب آفتاب کی روشنی دیکھنے سے محروم ہے۔ وادی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات گزشتہ 66 دنوں سے لگاتار بند ہیں۔ ان خدمات کی معطلی سے اہلیان کشمیر کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ لینڈ لائن فون خدمات بحال کی گئی ہیں تاہم یہ خدمات صرف شہروں اور قصبوں تک ہی محدود ہیں۔ دیہات میں رہنے والے لوگوں کا اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ رابطہ منقطع ہے۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ وادی میں کہیں بھی لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیاں نہیں ہیں تاہم احتیاط کے طور پر تمام حساس جگہوں پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی جاری رکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنگجوئوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے سری نگر اور وادی کے دوسرے حصوں میں سیکورٹی فورسز کے چیک پوائنٹ قائم کئے گئے ہیں۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے بدھ کی صبح پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا کے مطابق پائین شہر میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں تاہم لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے اور پتھرائو کرنے والے نوجوانوں سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رکھی گئی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق جامع مسجد کو بدستور مقفل رکھا گیا ہے اور کسی کو بھی اس کے دروازوں کے سامنے ٹھہرنے یا گاڑی کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بیشتر سڑکیں سنسان نظر آرہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ وادی میں گذشتہ دو ماہ سے معمولات زندگی دہم وبرہم ہیں، مواصلاتی نظام مسلسل معطل ہے جس سے لوگوں کے مشکلات ومسائل مزید دوچند ہوگئے ہیں۔

Published: 9 Oct 2019, 5:08 PM