کشمیر 2019: تعلیمی سرگرمیاں نصف سال تک بھی جاری نہ رہ سکیں

پانچ اگست کے بعد تعلیمی اداروں میں امتحانات منعقد ہونے تک تدریسی عمل بحال ہی نہیں ہوسکا جس کے نتیجے میں طلبا کا نصف سے بھی کم ہی نصاب مکمل ہوسکا لیکن انہیں امتحان پورے نصاب کا دینا پڑا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

از: ایم افضل

وادی کشمیر میں پانچ اگست کے بعد پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال کے باعث جہاں مختلف شعبہ ہائے حیات متاثر ہوئے وہیں معاشرے کے حساس ترین شعبہ تعلیم پر مرتب ہوئے منفی اثرات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پانچ اگست کے بعد یہاں کے تعلیمی اداروں میں امتحانات منعقد ہونے تک تدریسی عمل بحال ہی نہیں ہوسکا جس کے نتیجے میں طلبا کا نصف سے بھی کم ہی نصاب مکمل ہوسکا لیکن انہیں امتحان پورے نصاب کا دینا پڑا۔

بتادیں کہ مرکزی حکومت کے پانچ اگست کے جموں کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے بعد وادی میں غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا اور تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوئیں اور تمام طرح کی انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات معطل ہوئیں جو ہنوز بند ہی ہیں۔

وادی میں تعلیمی شعبے کی رہی سہی کسر انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات پر جاری پابندی پوری کردی۔ وادی کے طلبا کو اسکالرشپ فارم، داخلہ فارم یا امتحانی فارم جمع کرنے کے لئے گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہاں تک کہ مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاریوں میں مصروف طلبا اور ریسرچ اسکالروں کو اس قدر دقتوں کا سامنا ہے کہ بعض طلبا نے افسر کی کرسی پر بیٹھنے کے خواب کو ہی خیرباد کہہ دیا ہے اور بعض نے وادی کو ہی الوداع کہنے پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ کئی ریسرچ اسکالروں کے ریسرچ پیپر مکمل ہی نہیں ہوپارہے ہیں۔ طلبا کو اسکالر شپ فارم، داخلہ فارم یا امتحانی فارم جمع کرنے میں ہفتے لگ گئے بصورت دیگر یہ کام منٹوں میں ہی انجام پاتا تھا۔

حکومت نے اگرچہ ضلع صدرمقامات پر این آئی سی سینٹر کھول دیے تاکہ طلبا استفادہ کرسکیں لیکن ان میں دستیاب ناکافی سہولیات اور ایس ایم ایس سروس کی معطلی سے طلبا کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ وادی میں جاری غیر یقینی اگرچہ آسودہ حال گھرانوں کے بچے بیرون ریاست جاکر اپنے تعلیمی مستقبل کو آراستہ وپیراستہ کرنے میں مصروف ہیں لیکن غریب گھرانوں کے طلبا کے بہتر تعلیمی مستقبل کے خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی امیدیں کہیں نظر نہیں آرہی ہیں۔

وادی کشمیر میں رواں برس تعلیمی سال کا نصف سے بھی زیادہ حصہ نامساعد حالات کا نذر ہوا جس سے طلبا کے تعلیمی مستقبل پر گہرے منفی اثرات مرتسم ہوئے کیونکہ جہاں ایک طرف تعلیمی اداروں میں سالانہ امتحانات کے انعقاد تک تعلیمی سرگرمیاں بحال ہی نہیں ہوسکیں جس کے نتیجے میں طلبا نصف سے بھی کم نصاب ہی مکمل کرسکے وہیں وہ اضطرابی اور غیر یقینی صورتحال کے سایہ فگن رہنے سے مختلف ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہوئے۔ ادھر وادی میں طلبا ابھی غیر یقینی صورتحال کے بھنور میں ہی پھنسے تھے کہ جموں کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کے لئے ڈیٹ شیٹ جاری کیا اور ماہ اکتوبر کی 29 تاریخ سے دسویں جماعت کے اور 30 اکتوبر سے بارہویں جماعت کے امتحانات کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔

طلبا کی طرف سے احتجاج کے باوصف بھی متعلقہ محکمے نے نصاب میں کوئی رعایت نہیں کی جس سے طلبا کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا۔ جے کے بوس کی طرف سے نامساعد حالات کے بیچ دسویں اور بارہویں جماعتوں کے لئے امتحانات کی ڈیٹ شیٹ جاری کرنے کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ وادی میں امتحانات منعقد کرانے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ یہاں سب کچھ نارمل ہے۔ وادی کی سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کے باعث دور افتادہ علاقوں کے طلبا کو میلوں کی مسافت پیدل طے کرکے امتحانی سینٹروں تک پہنچنا پڑتا تھا بلکہ کئی طلبا امتحانات کے دوران امتحانی سینٹروں کے نزدیک رشتہ داروں یا دوستوں کے ہاں ہی ٹھہرے تھے اور کئی بچے کرایہ کے کمروں میں بیٹھنے پر مجبور ہوئے تھے۔

کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے انڈر گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کرنے والے طلبا کی ڈگریاں تو پہلے ہی طوالت کا شکار ہورہی تھیں لیکن پانچ اگست کے بعد تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے بشمول کشمیر یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں مفقود ہونے سے جہاں طلبا کی پڑھائی متاثر پوئی وہیں امتحانات مقررہ وقت پر ایک بار پھر منعقد نہیں ہوسکے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ جس کورس کی مدت تکمیل تین برس ہے وہ ساڑھے چار برس بیت جانے کے بعد بھی تشنہ تکمیل ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن طلبا نے سال 2016 میں گریجویشن کے لئے داخلہ لیا ہے ان کا کورس سال 2018 کے اواخر تک مکمل ہونا چاہئے لیکن آج وہ طلبا پانچویں سمسٹر کا امتحان دے رہے ہیں۔

کشمیر یونیورسٹی کے ذریعے پوسٹ گریجویشن کرنے والے طلبا کا بھی یہی حال ہے ان کا کورس بھی اس قدر طول پکڑ رہا ہے کہ بعض طلبا کورس کو ادھورا ہی چھوڑ کر بیرون ریاست کسی ہونیورسٹی میں پی جی کورس کے لئے سر نو داخلہ کرنے پر غور کررہے ہیں۔
وادی کشمیر میں قائم قومی سطح کی یونورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بھی بالکل یہی صورتحال ہے۔ سینٹرل یونیورسٹی کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں روایتی اور فاصلاتی طرز تعلیم کے ذریعے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کررہے زائد از 8 ہزار طلبا کا تعلیمی مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے علاوہ ازیں متذکرہ یونیورسٹی کے سری نگر میں قائم سائنس اینڈ آرٹس کالج برائے خواتین میں بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور اس کالج میں تعینات غیر ریاستی اساتذہ کو بیرون ریاست ٹرانسفر کیا گیا جنہیں بعد ازاں کالج میں زیر تعلیم طلبا کی طرف سے احتجاج درج کرنے کے بعد ہی واپس لایا گیا۔

اردو یونیورسٹی کے سالانہ و سمسٹر امتحانات موخر ہوئے جس سے طلبا کے کورسز طویل ہوگئے جو امتحانات ماہ اکتوبر میں ہی منعقد ہوا کرتے تھے ان کی فی الوقت ڈیٹ شیٹ بھی نہیں نکلی ہے جبکہ سائنس اینڈ آرٹس کالج میں امتحانات اب دسمبر کے بجائے فروری میں لئے جانے کا امکان ہے۔ سری نگر میں قائم این آئی ٹی میں بھی پانچ اگست کے بعد ہی تعلیمی سرگرمیاں بند ہوئیں اور اس میں زیر تعلیم غیر ریاستی طلبا اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تاہم کالج میں ماہ اکتوبر میں ہی تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔