کارتیگئی دیپم تنازعہ: ’صرف رمضان اور بقرعید میں نماز پڑھ سکتے ہیں‘، سپریم کورٹ نے سنایا فیصلہ

گزشتہ سال اکتوبر میں مدراس ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں پہاڑی کے نیلی تھوپو علاقہ میں مویشیوں کی بلی پر بھی روک لگا دی تھی۔ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے امامِ درگاہ نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

سپریم کورٹ نے تھروپّرن کندرم پہاڑی پر ’کارتیگئی دیپم تنازعہ‘ میں مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے۔ یعنی پہاڑی کے نیلی تھوپو علاقہ میں مسلم طبقہ رمضان المبارک اور عیدالاضحیٰ (بقرعید) پر ہی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ہر دن اس جگہ پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ تھروپّرن کندرم پہاڑی واقع نیلی تھوپو علاقہ پر سکندر بادوشا اولیا درگاہ کا مالکانہ حق ہے۔ اسی پہاڑی کے نشیب میں بھگوان سبرمنیا سوامی کا مندر ہے اور اس پہاڑی کو بھگوان سبرمنیا کا گھر تصور کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے سناتن مذہب کو ماننے والے لوگوں کے لیے یہ پہاڑی پاکیزہ ہے۔ اس پہاڑی پر مندر کے ساتھ ہی ایک درگاہ بھی ہے، جس کی وجہ سے یہاں نماز پڑھنے اور مویشی کی بلی چڑھانے پر تنازعہ چل رہا ہے۔


گزشتہ سال اکتوبر میں مدارس ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں اس علاقہ میں مویشیوں کی بلی پر پابندی لگا دی تھی۔ ساتھ ہی مسلم طبقہ کو روزانہ نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج پیش کرتے ہوئے درگاہ کے ایک امام نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی وارالے کی بنچ نے ہائی کورت کے حکم میں مداخلت سے انکار کر دیا اور ہائی کورٹ کے حکم کو متوازن قرار دیا۔

توجہ طلب یہ بھی ہے کہ پچھلے سال دسمبر ماہ میں مدراسہ ہائی کورٹ نے درگاہ کے قریب دیپاتھون نامی جگہ پر دِیا جلانے کی اجازت دی تھی۔ اس معاملہ پر خوب تنازعہ بھی ہوا۔ ریاستی حکومت نے نظامِ قانون بگڑنے کا حوالہ دے کر ہائی کورٹ کے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے حکومت کے خلاف حکم عدولی کی کارروائی کی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔