کرتار پور کوریڈور کا سہرا عمران خان کے سر جاتا ہے: نوجوت سدھو

نوجوت سدھو کا کہنا ہے کہ’’28 نومبر کو گرونانک جی کے واسطے میں کانٹوں کے راستے پرچل کر پاکستان جا سکتا ہوں۔ میں سکھ ہوں اور ہم جھپّی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ایسے میں جنرل باجوا سے جھپّی بھی کام کر گئی۔‘‘

قومی آوازبیورو

کانگریس لیڈر اور حکومت پنجاب میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے ایک بار پھر کرتار پور کوریڈور بنانے کا سہرا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے سر باندھا ہے۔ انھوں نے ایک ہندی نیوز ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’کوریڈور کی تعمیر کی خبر سے پوری دنیا میں خوشی کا ماحول ہے۔ ایسے میں اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے پاکستان سے آئے دعوت نامہ کے تعلق سے کہا کہ ’’28 نومبر کو گرونانک جی کے واسطے میں کانٹوں کے راستے پر چل کر پاکستان جا سکتا ہوں۔ میں تو سکھ ہوں اور ہم تو جھپّی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ایسے میں جنرل باجوا سے جھپّی بھی کام کر گئی۔ میں تو اس کی جھپّی کروں گا جو میرے نانک کے واسطے ہیں۔‘‘

دراصل پاکستان نے نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ کو بھی مدعو کیا ہے لیکن ان دونوں نے معذرت کر لی ہے۔ سشما سوراج نے اپنی مصروفیت کا حوالہ دیتے ہوئے سنگ بنیاد تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ دو مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل اور ایچ ایس پوری پاکستان جائیں گے۔ کیپٹن امرندر سنگھ نے شہیدوں کا ایشو اٹھاتے ہوئے پاکستان جانے سے انکار کر دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت ہند نے بھی اپنے حصے میں کرتارپور کوریڈور بنانے کا فیصلہ لیا تھا اور 26 نومبر کی صبح اس کی سنگ بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے۔ نائب صدر جمہوریہ ونکیا نائیڈو، مرکزی وزیر نتن گڈکری، ہرسمرت کور اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر کیپٹن امریندر سنگھ نے حکومت ہند اور حکومت پاکستان کا کرتارپور کوریڈور بنائے جانے کے فیصلہ کا شکریہ ادا کیا۔ لیکن ساتھ ہی کیپٹن امریندر نے پاکستانی فوجی سربراہ باجوا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ابھی وہ میرے سے کافی جونیئر ہیں۔ میں مشرف سے بھی سینئر ہوں۔ ہر فوجی کو پتہ ہے کہ دوسرا فوجی کیا سوچ رہا ہے۔ ہم ہمیشہ اپنے ملک کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، لیکن تمھیں یہ کس نے سکھایا ہے کہ عام لوگوں کو مار دو۔ لوگ امرتسر میں کیرتن کر رہے تھے اور وہاں گرینیڈ مار دیا گیا۔ ‘‘ امریندر سنگھ نے مزید کہا کہ ’’بطور سکھ میں چاہتا ہوں کہ میں کرتار پور صاحب جاؤں، لیکن میں وزیر اعلیٰ بھی ہوں۔ یہی سبب ہے کہ میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔‘‘

Published: 26 Nov 2018, 9:39 AM