کرتارپور معاہدے پر دستخط: پاکستان، عقیدت مندوں سے فیس وصولنے پر بضد

کرتارپور کوریڈور کے تعلق سے معاہدے پر دستخط کے بعد ہندوستان نے کہا کہ وہ پاکستانی حکومت سے عقیدت مندوں سے وصولی جانے والی بیس ڈالر کی فیس کو معاف کرنے کی مسلسل اپیل کرتا رہے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ڈیرا بابا نانک(گرداس پور): ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ ڈیرا بابا نانک سے کرتارپور صاحب گرودوارے تک کے گلیارے کو عقیدت مندوں کے لئے کھولنے سے متعلق معاہدے پر آج دستخط کردیئے اور کہا کہ وہ پاکستانی حکومت سے عقیدت مندوں سے وصول کی جانے والی 20 ڈالر کی فیس کو معاف کرنے کی مسلسل اپیل کرتا رہے گا۔ جبکہ پاکستان نے عقیدت مندوں کی حفاظت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس گلیارے کا خالیستانیوں اور دیگر ہندوستان مخالف طاقتوں کو استعمال نہیں کرنے دے گا۔

سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی کے 550 ویں یوم پیدائش (پرکاش پرو) کے موقع پر کرتارپور صاحب گرودوارے تک کا گلیارا ہندوستانی سکھ زائرین کےلئے کھولنے کے سلسلے میں طویل عرصے سے معاہدے کا انتظار تھا، اس پر آج دستخط ہو گئے ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے وزارت داخلہ میں جوائنٹ سکریٹری ایس سی داس اور پاکستان کی جانب سے فارن سروس کے افسر محمد فیصل نے یہاں مفاہمت نامے پر دستخط کر کے دستاویزوں کا تبادلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی وزارت داخلہ نے مسافروں کے رجسٹریشن کے لئے ایک ویب پورٹل کو بھی آج سے کھول دیا ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی 9 نومبر کو ہندوستان کی جانب سے تیار کی گئی سہولیات اور مسافر ٹرمینل کا افتتاح کریں گے، جو تقریباً تیار ہے اور مکمل ہونے کے آخری مرحلے میں ہے۔ معاہدے پر دستخط کے بعد وزارت داخلہ میں جوائنٹ سکریٹری ایس سی ایل داس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان سے بار بار اپیل کررہا ہے کہ وہ عقیدت مندوں کا خیال رکھتے ہوئے ان سے 20 ڈالر کی فیس وصولنے کے اپنے فیصلے کو واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی کی بات ہے کہ پاکستان نے ابھی تک اس پر کوئی مثبت رخ اختیار نہیں کیا لیکن ہندوستانی حکومت کی سطح پر اور دیگر ذرائع کے ذریعہ پاکستان سے مسلسل اپیل کرتا رہے گا کہ وہ اپنے فیصلے کو واپس لے۔ ہندوستان اس کے لئے کسی بھی وقت معاہدے میں ترمیم کرنے کو بھی تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان حکومت کی سطح پر اور دیگر ذرائع کے ذریعہ پاکستان سے مسلسل اپیل کرتا رہے گا کہ وہ اپنے فیصلے پر پھر سے غور کرے۔ ہندوستان اس کے لئے کسی بھی وقت معاہدے میں ترمیم کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ذریعہ عقیدت مندوں سے فیس وصولنے پر اڑے رہنے کے باوجود ہندوستان نے عقیدت مندوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے یہ معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بیس ڈالر کی رقم ہندوستان کی جانب سے لی جائےگی۔ مسافر ٹریول پرمٹ لے کر سرحد پار کرنے کے بعد پاکستان کے افسروں کو فیس ادا کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مسافر ٹرمینل پر عقیدت مندوں کو روپے دے کر ڈالر لینے کے لئے منی ایکسچینج کاؤنٹر بھی قائم کیے جائیں گے۔

داس کے ساتھ موجود دیگر افسروں نے بتایا کہ ریاست کے بہت سارے لوگ ڈیرا بابا نانک کے درشن کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کو پاسپورٹ مہیا کرانے کے لئے وزارت خارجہ زیادہ سے زیادہ پاسپورٹ سروس سینٹر قائم کرے گی۔

next