کرناٹک: سبھی کی نگاہیں گورنر پر مرکوز

کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا

224 میں سے فی الحال 222 اراکین کی اسمبلی میں کسی بھی پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے اور حکومت سازی کے لیے دو پارٹیوں کا اتحاد ضروری ہے۔ کانگریس نے جے ڈی ایس سے ہاتھ ملا کر مقابلہ دلچسپ بنا دیا ہے۔

آج کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج جیسے جیسے آ رہے تھے ویسے ویسے ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق معاملہ ڈرامائی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا اور غیر یقینی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اب جب کہ 222 سیٹوں کے نتائج برآمد ہو چکے ہیں اور ایک طرف بی جے پی نے اور دوسری طرف کانگریس-جے ڈی ایس نے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر دیا ہے تو گیند گورنر وجوبھائی والا کے ہاتھوں میں پہنچ گیا ہے۔

انتخابات کے نتائج برآمد ہونے کے بعد حاصل اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو بی جے پی کے پاس 104 ممبران اسمبلی ہیں، کانگریس کے پاس 78 ہیں، جے ڈی ایس اتحاد کے پاس 38 ہیں، ایک آزاد ممبر اسمبلی ہے اور ایک ممبر اسمبلی کرناٹک پرگیاونتھا جنتا پارٹی کا ہے۔ 224 میں سے فی الحال 222 اراکین کی اسمبلی میں کسی بھی پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ حکومت بنانے کے لیے کسی دو پارٹی کا ساتھ آنا ضروری ہے۔ اس لیے رجحان آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی کانگریس نے جے ڈی ایس کو وزیر اعلیٰ عہدہ کی پیشکش کرتے ہوئے شہ اور مات کے اس کھیل میں پہلی بڑی چال چل دی تھی اور جے ڈی ایس نے اسے قبول بھی کر لیا۔

اس طرح سے انتخابات کے بعد بنے کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد کے پاس 116 سیٹیں ہو گئیں جو اکثریت سے 5 سیٹیں زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد ممبر اسمبلی ایچ ناگیش نے بھی کانگریس کو حمایت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کرناٹک پرگیاونتھا جنتا پارٹی کا ایک ممبر اسمبلی بھی کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح 118 کے مقابلے 104 سیٹوں کی اسمبلی کی تصویر بنتی ہے۔ لیکن یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ گورنر حکومت بنانے کے لیے اکثریت رکھنے والے کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد کو مدعو کرتے ہیں یا اکثریت سے دور سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کو۔

اتنا تو طے ہے کہ اگر بی جے پی حکومت بنا بھی لیتی ہے تو اس کے لیے اکثریت ثابت کرنا مشکل ہوگا کیونکہ کسی بھی پارٹی کو توڑنے کے لیے دو تہائی ممبران اسمبلی کا نکلنا دل-بدل قانون کے حساب سے ضروری ہوتا ہے اور ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ ایک دوسرا طریقہ بھی ہے۔ اگر کانگریس یا جے ڈی ایس کے کم از کم ایک درجن ممبران اسمبلی اعتماد کے ووٹ کے دوران غیر حاضر رہتے ہیں یا نااہلی کا خطرہ اٹھاتے ہوئے پارٹی کے وہپ کے خلاف جا کر ووٹ کرتے ہیں تو ہی بی جے پی حکومت بن سکتی ہے۔

کیا بی جے پی آئندہ لوک سبھا انتخابات کے تقریباً ایک سال قبل خرید و فروخت کا الزام برداشت کرنے کا خطرہ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟ کیا اسے لوک سبھا سیٹوں کی پرواہ نہیں؟ پارٹی کے اب تک کے طور طریقے کو دیکھ کر ایسا یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بالکل 2014 کے دہلی اسمبلی انتخابات جیسی حالت ہے جب بی جے پی سب سے بڑی پارٹی ہوتے ہوئے اکثریت سے دور تھی اور کانگریس کی حمایت سے عام آدمی پارٹی نے حکومت بنائی تھی۔ حکومت گرنے کے بعد بھی بی جے پی عوام میں جانے والے غلط پیغام کی وجہ سے عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کو اپنے ساتھ ملانے میں جھجکتی رہی کیونکہ لوک سبھا انتخابات قریب تھے۔ لیکن اب تو مرکز میں حکومت بھی ان کی ہے اور ریاست میں گورنر بھی۔ اس لیے تھوڑا اندیشہ ہونا لازمی ہے۔

یہ اندیشہ اس وقت بھی تھا جب نتیجے آ رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایسا لگنے لگا کہ بی جے پی کو اکثریت مل جائے گی۔ ایک وقت تو بی جے پی رجحانات میں اکثریت کو پار بھی کر گئی تھی لیکن پھر ایک ایک کر کے اس کی تعداد کم ہونے لگی اور وہ 104 تک محدود رہ گئی۔ گورنر کے پاس حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کے لیے بھی باری باری سے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ امیدوار بی ایس یدیورپا اور کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد کے وزیر اعلیٰ عہدہ کے دعویدار ایچ ڈی کماراسوامی پہنچ گئے۔ ہر طرف غیر یقینی اور ہنگامہ برپا ہے۔ سبھی کی نگاہیں گورنر پر ہی مرکوز ہو گئیں، اور اب بھی ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول