کرناٹک پولیس فائرنگ متاثرین معاملہ، یدی یورپا کے یو ٹرن لینے پر بھڑکے سدارميا

سدارمیا نے بی ایس یدی یورپا کے زیر قیادت حکومت کو ’نفرت انگیز، فرقہ وارانہ‘ قرار دیتے ہوئے ٹوئٹ کرکے کہا کہ ’’ایک منتخب حکومت کو اس قدر غیر انسانی اور نفرت انگیز، فرقہ وارانہ نہیں ہونا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بنگلور: کانگریس کے سینئر لیڈر اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلی سدارميا نے شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے) کے خلاف مینگلور میں مظاہرے کے دوران پولیس فائرنگ میں مارے گئے دو لوگوں کے اہل خانہ کو امدادی رقم دینے کے بارے میں یدی یورپا حکومت کے یو ٹرن لینے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’غیر انسانی‘ قرار دیا۔

سدارمیا نے بی ایس یدی یورپا کے زیر قیادت حکومت کو ’نفرت انگیز، فرقہ وارانہ‘ قرار دیتے ہوئے ٹوئٹ کرکے کہا کہ ’’ایک منتخب حکومت کو اس قدر غیر انسانی اور نفرت انگیز فرقہ وارانہ نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت مینگلور فسادات کے دوران جان گنوانے والے لوگوں کے اہل خانہ کو مدد نہ دے کر غلط روایت قائم کر رہی ہے۔ یدی یورپا نے تو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی سزا سنا دی ہے‘‘۔

سابق وزیر اعلی نے یدی یورپا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فائرنگ کے جرم کی محکمہ (سی آئی ڈی) سے تحقیقات اور بدھ کو یدی یورپا کا بیان باہم متضاد ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یدی یورپا نے پولیس کو فائرنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔

انهوں نے کہا کہ ’’یدی یورپا نے پہلے پولیس فائرنگ میں مارے گئے دونوں لوگوں کو مینگلور فسادات کا مجرم ٹھہرا دیا ہے تب سی آئی ڈی جانچ کا ڈرامہ کیوں؟ جانچ کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ اب یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ آپ (یدی یورپا) ہی وہ شخص ہیں جس نے پولیس کو لوگوں کی جان لینے کا حکم دیا‘‘۔

واضح رہے کہ یدی یورپا نے مینگلور میں پولیس کی فائرنگ کے دو متاثرین کو 10۔10 لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اپنا حکم واپس لے لیا ہے۔ انہوں نے آج صحافیوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ 19 دسمبر کو مینگلور میں ہوئے تشدد میں پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک دو لوگوں کے اہل خانہ کو امدادی رقم نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کیونکہ دونوں افراد مجرمانہ الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور ملزمان کو معاوضہ دیئے جانے کی کوئی روایت نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’معاوضہ کی ادائیگی کا فیصلہ ریاستی حکومت کی طرف سے جاری ہدایت، سی آئی ڈی اور مجسٹریٹ تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد ہی لیا جائے گا‘‘۔ پولیس کی فائرنگ کے متاثرین کے اہل خانہ کو امدادی رقم کی ادائیگی کا اپنا فیصلہ واپس لینے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں افراد فسادات کے واقعہ میں مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو مجرمانہ الزام کا سامنا کر رہے ہوں، انہیں معاوضہ دینے کا التزام نہیں ہے‘‘۔