کرناٹک حکومت کا بڑا فیصلہ: ریاست میں گٹکھا-پان مسالہ بنانے، فروخت کرنے اور نقل و حمل پر ایک سال کی پابندی

حکومت کا مقصد تمباکو اور نیکوٹین کے استعمال سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات کو کم کرنا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوڈ سیفٹی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ڈی کے شیو کمار/ تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i

کرناٹک کے فوڈ سیفٹی کمشنر کے دفتر نے ریاست میں تمباکو اور نیکوٹین پر مشتمل گٹکھا و پان مسالہ کی تیاری، ذخیرہ اندوزی، سپلائی، نقل و حمل اور فروخت پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ عوامی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ حکم نامے کے تحت ایسی مصنوعات کی کسی بھی قسم کی سپلائی اور فروخت پر روک رہے گی۔ محکمہ فوڈ سیفٹی نے متعلقہ تاجروں کو اس پابندی پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت کا مقصد تمباکو اور نیکوٹین کے استعمال سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات کو کم کرنا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوڈ سیفٹی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ کرناٹک حکومت نے فوڈ سیفٹی افسران کی قیادت میں خصوصی معائنہ اور نفاذ کی مہم بھی شروع کی ہے۔ افسران کی ٹیمیں ممنوعہ تمباکو اور نیکوٹین مصنوعات کی فروخت اور سپلائی پر نظر رکھیں گی اور قواعد کی خلاف ورزی پائے جانے پر کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ نے یہ حکم فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 کی دفعہ 30(2)(اے) اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (فروخت پر ممانعت اور پابندی) ریگولیشن، 2011 کے ریگولیشن 2.3.4 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جاری کیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ کرناٹک کے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے عام لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کہیں ممنوعہ تمباکو یا نیکوٹین مصنوعات کی تیاری، فروخت یا سپلائی کی معلومات ملے تو متعلقہ افسران کو مطلع کریں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ریاست میں تمباکو کی لت پر قابو پانا اور صحت مند و نشہ سے پاک کرناٹک کی تعمیر کی سمت میں کام کرنا ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو نشہ سے پاک اور صحت مند کرناٹک کی سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔