کرناٹک LIVE: گورنر نے اصولوں کی خلاف ورزی کر کے پروٹیم اسپیکر مقرر کیا، کانگریس

پروٹیم اسپیکر معاملہ میں سماعت کل صبح 10.30 بجے

عدالت عظمیٰ نے جے ڈی ایس-کانگریس کی اس عرضی کو قبول کر لیا ہے جس میں کرناٹک کے گورنر کے ذریعہ پروٹیم اسپیکر کے طور پر بی جے پی ممبر اسمبلی کے جی بوپیّا کی تقرری کو چیلنج پیش کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں عدالت ہفتہ کی صبح 10.30 بجے سماعت کرے گی۔

پروٹیم اسپیکر کے خلاف کانگریس بھی پہنچی سپریم کورٹ

کانگریس کے وکیل پروٹیم اسپیکر کے خلاف سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس پہنچ گئے ہیں اور فوری سماعت کے لیے انھوں نے رجسٹرار دفتر میں عرضی دی ہے۔

کانگریس ممبر اسمبلی کو لالچ دیتے ہوئے بی جے پی کا آڈیو سامنے آیا

کرناٹک کانگریس نے ایک آڈیو جاری کیا ہے جس میں بی جے پی کے جناردن ریڈی رائیچور دیہی سے کانگریس کے ممبر اسمبلی کو عہدہ اور پیسے کا لالچ دیتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں۔ کرناٹک کانگریس نے کہا کہ آڈیو میں جناردن ریڈی صاف طور پر کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ انھیں خرید و فروخت کرنے کے لیے امت شاہ کا ’آشیرواد‘ حاصل ہے۔

جے ڈی ایس نے پروٹیم اسپیکر کی تقرری کے خلاف عدالت کا رخ کیا

خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ جے ڈی ایس نے کرناٹک میں پروٹیم اسپیکر کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج پیش کر دیا ہے۔ اس سے پہلے کانگریس نے پروٹیم اسپیکر کی تقرری کو لے کر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ اس میں قوانین کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کرناٹک معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد گورنر وجوبھائی والا نے بی جے پی ممبر اسمبلی کے جی بوپیّا کو اسمبلی کا پروٹیم اسپیکر مقرر کیا تھا۔ حالانکہ روایت یہ ہے کہ ایوان کے سب سے سینئر ممبر اسمبلی کو پروٹیم اسپیکر بنایا جاتا ہے۔ کانگریس کے ایک ممبر اسمبلی موجودہ اسمبلی میں سب سے سینئر رکن ہیں اور وہ 10 مرتبہ ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں۔

حیدر آباد میں ہوٹل تاج کرشنا میں سدارمیا کی ممبران اسمبلی سے ملاقات

کانگریس ممبران اسمبلی کو خرید و فروخت سے بچانے کے لیے حیدر آباد کے ہوٹل تاج کرشنا میں رکھا گیا ہے جہاں کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا تھوڑی دیر قبل پہنچے۔ انھوں نے وہاں کانگریس ایم ایل اے کے ساتھ ملاقات بھی کی اور حالات کا جائزہ لیا۔

بی جے پی نے سبھی 104 ممبران اسمبلی کو پارٹی دفتر بلایا

بی جے پی نے بنگلورو میں اپنے سبھی 104 ممبران اسمبلی کو پارٹی دفتر طلب کیا ہے۔ ممبران اسمبلی سے کہا گیا ہے کہ وہ شام 7 بجے تک اپنی جیت کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ آئیں۔

گورنر نے اصولوں کی خلاف ورزی کر کے پروٹیم اسپیکر مقرر کیا، کانگریس

فلور ٹیسٹ سے قبل گورنر نے بی جے پی رکن اسمبلی کے جی بوپیا کو پروٹیم اسپیکر مقرر کیا ہے۔ اس پر کانگریس نے گورنر پر اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس کے رہنما ابھیشیک منو سنگھوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’بی جے پی نے جو کیا وو اصول و ضوابط کے خلاف ہے۔ عام طور پر سب سے سینئر رہنما کو پروٹیم اسپیکر مقرر کیا جاتا ہے۔‘‘

ادھر کرناٹک کانگریس کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے بھی کے جی بوپیا کو پورٹیم اسپیکر مقرر کئے جانے پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔ گنڈو راؤ نے ٹوئٹر پر گورنر وجو بھائی کی طرف سے جاری تقرری نامہ کی کاپی پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’گورنر کا حیرن کن فیصلہ۔ آئینی اصولوں کے مطابق سب سے سینئر رکن اسمبلی کو پروٹیم اسپیکر مقرر کیا جاتا ہے اور اس حساب سے آر سی دیشپانڈے سب سے بزرگ ہیں۔‘‘

گنڈو راؤ نے مزید لکھا، ’’یہ دیکھ کر افسوس ہو رہا ہے کہ گورنر وجو بھائی والا بی جے پی کے ایجنٹ کی طرح کام کر رہے ہیں۔

بی جے پی رکن اسمبلی کے جی بوپیا پروٹیم اسپیکر مقرر

سپریم کورٹ کے فلور ٹیسٹ کے حکم کے بعد کرناٹک کے گونر وجو بھائی والا نے بی جے پی کے رکن اسمبلی کے جی بوپیا کو پوٹیم اسپیکر مقرر کر دیا ہے۔ حالانکہ کانگریس کا الزام ہے کہ اس تقرری میں اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

دریں اثنا بی جے پی کے تمام ارکان اسمبلی نے راج بھون میں گورنے سے ملاقات کی۔

بی جے پی کے 3 ارکان اسمبلی کانگریس کے ساتھ!

کرناٹک کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے اور بی جے پی کو کل ہی فلور ٹیسٹ کے ذریعے اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے بعد بی جے پی کی مشکلیں لگاتار بڑھتی ہوئی نظر رہی ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ کرناٹک کے ووکا لیگا سے تین بی جے پی ارکان اسمبلی کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد کے ساتھ جا سکتے ہیں۔

اگر بی جے پی کے 3 ارکان اسمبلی کم ہو جاتے ہیں تو اکثریت ثابت کرنے کی راہ میں اسے شدید جھٹکا لگے گا۔

بہار میں کانگریس اور گوا میں کانگریس کا حکومت سازی کا دعوی پیش

کرناٹک گونر کے سب سے بڑی پارٹی کی بنیاد پر بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دینے کا اثر اب متعدد ریاستوں میں نظر آنے لگا ہے۔ ایک طرف جہاں کانگریس نے گوا، منی پور اور میگھالیہ میں اسے سب سے بڑی پارتی ہونے کے باوجود حکومت سازی کا موقع نہ دئے جانے پر بی جے پی پر تنقید کی ہے۔

کانگریس نے گوا اور منی پور میں گورنروں سے ملاقات کے بعد حکومت سازی کا دعوی پیش کر دیا ہے۔ وہیں بہار میں سابق نائب اعلی اور آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو نے بھی حکومت سازی کا دعوی پیش کیا ہے۔ انہوں نے گورنر کو سی پی آئی (ایم ایل) اور ہندوستانی عوام مورچہ سیکولر کی حمایت کا لیٹر بھی سونپ دیا۔

بنگلورو میں کانگریس کی پریس کانفرنس

کرناٹک میں کل شام 4 بجے فلور ٹیسٹ کرائے جانے کے فیصلے پر کانگریس میں خوشی کا ماحول ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈران پہلے سے ہی کرناٹک میں موجود ہیں۔ نبگلورو میں غلام نبی آزاد اور ملکارجن کھڑگے نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدا رمیا بھی اس موقع پر موجود رہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا، ’’کانگریس پارٹی کی طرف سے میں سپریم کورٹ کے عزت مآب ججوں کا قانون کا راج بحال کرنے کے لئے شکریہ ادا کنا چاہوں گا۔ بی جے پی کی طرف سے مقرر کئے گئے کچھ گورنر آئین کے مطابق فیصلے نہیں لے رہے ہیں۔‘‘

بنگلورو میں کانگریس کی پریس کانفرنس

بنگلورو میں کانگریس کی پریس کانفرنس

غلام نبی آزاد نے مزید کہا، ’’ہم نے تمام کانگریس، جے ڈی ایس اور آزاد ارکان اسمبلی کے ناموں والی فہرست گورنر کو سونپی۔ لیکن افسوس ناک ہے کہ گورنر نے بی جے پی کو حکومت سازی کے لئے مدعو کیا۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کسی گورنر نے اکثریت ثابیت کرنے کے لئے 15 دنوں کا وقت نہیں دیا۔‘‘

سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ گورنر والا کا فیصلہ غیر آئینی تھا: راہل گاندھی

سپریم کورٹ کے فیصلے پر کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ میں لکھا، ’’سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے نے ہمارے اِس موقف کو صحیح ثابت کر دیا، کہ گورنر والا نے غیر آئینی اقدام اٹھایا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ، ’’بی جے پی کا کے اس دکھاوے کو کہ وہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت بنا لے گی سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔‘‘

راہل گاندھی نے آخر میں لکھا، ’’قانونی طور پر روکے جانے کے بعد اب وہ پیسے اور طاقت کا استعامل مینڈیٹ کو چرانے کے لئے کریں گے۔‘‘

یدی یورپا اکثریت ثابت کرنے کو لے کر پُرامید

سپریم کورٹ کے کل ہی فلور ٹیسٹ کرانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا نے کہا کہ ’’ چیف سکریٹری سے تبادلہ خیال کرکے کل اسمبلی اجلاس طلب کریں گے۔ ہم صد فیصد پُر اعتماد ہیں کہ واضح اکثریت ثابت کر دیں گے۔‘‘

یہ تاریخی فیصلہ ہے: سنگھوی

کانگریس کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہاکہ ’’یہ سپریم کورٹ کا ایک تاریخی فیصلہ ہے اور ہم کل اسمبلی میں بھی صد فیصد جیت حاصل کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کئی فیصلے دئیے ہیں جن میں سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کل شام 4 بجے پورو ٹیم اسپیکر کی نگرانی میں فلورٹیس کرانے کا حکم ہے۔

ابھیشیک منو سنگھوی نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ ’’سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کل فلور ٹیسٹ سے پہلے تمام ممبران اسمبلی کو حلف دلوایا جائے اور یدی یورپا کل تک کوئی پالیسی سے متعلق فیصلہ نہیں لے سکیں گے۔‘‘

سپریم کورٹ پر لوگوں کا عقیدہ مضبوط ہوا: کانگریس کے وکیل

سپریم کورٹ میں پیش ہوئے کانگریس کے وکیل اشونی کمار نے کل فلور ٹیسٹ کرائے جانے کے فیصلے پر میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ کے فیصلے سے آئینی اقدار اور جمہوریت بحال ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا جشن منایا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کی دانشمندی پر لوگوں کا عقیدہ ایک بار پھر مضبوط ہوا ہے۔ یہ اس پارٹی کے لئے بڑا جھٹکا ہے جو اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔‘‘

سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت بحال: کانگریس

سپریم کورٹ نے کرناٹک اسمبلی میں کل یعنی 19 مئی کو بی جے پی کو اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا ہے۔ کانگریس کی طرف سے خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئین کی جیت ہوئی، جمہوریت بحال۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا ’’بی ایس یدی یورپا اب محض ایک دن کے وزیر اعلی رہ گئے ہیں۔ آئین نے غیر قانونی سی ایم کے ساتھ کارناٹک کے گورنر کے غیر آئینی فیصلے کو بھی مسترد کر دیا۔‘‘

کل شام 4 بجے فلور ٹیسٹ کرائے جانے کا سپریم کورٹ کا حکم

سپریم کورٹ نے بی جے پی کے وکیل مکل روہتگی کے بار بار وقت کے اضافے کے مطالبہ کو خارج کرتے ہوئے کل شام چار بجے کرناٹک اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کرائے جانے کا حکم جاری کر دیا۔ مکل روہتگی فلور ٹیسٹ کے لئے ایک ہفتہ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ فلور ٹیسٹ کے لئے ضوابط تیار کرنے کے لئے جو پروٹیم اسپیکر طے کئے گئے ہیں وہ کانگریس کے رکن ہیں۔

ادھر ذرائع کے مطابق کانگریس اپنے تمام ارکان اسمبلی کے دستخط شدہ حلف نامہ کرناٹک کے گورنر وجو بھائی والا اور صدر جمہوریہ کو پیش کرنے جا رہی ہے۔ اس حلف نامہ کے بعد اگر کوئی رکن اسمبلی پارٹی کے وہپ کے خلاف جاکر بی جے پی کی حمایت کرتا ہے تو اس کو اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

اینگلو انڈین رکن اسمبلی کی نامزدگی پر سپریم کورٹ کی روک

بی جے پی کی کرناٹک اسمبلی میں اپنے ارکان کی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوشش کو اس وقت جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے کرناٹک گورنر کے اس فیصلے پر روک لگا دی جس میں انہوں نے اینگلو انڈین کی نامزدگی کی تھی۔ خیال رہے کہ اس معاملہ کو سب سے پہلے کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب تک کرناٹک اسمبلی میں فلور ٹیسٹ نہ ہو جائے اینگلو انڈین کی نامزدگی نہیں ہونی چاہئے۔

سپریم کورٹ نے کل فلور ٹیسٹ کرانے کی تجویز رکھی

سپریم کورٹ بینچ نے دونوں فریقین کے سامنے یہ پیش کش رکھی ہے کہ کل فلور ٹیسٹ کرایا جائے۔ اس پیش کش پر دونوں فریقین کو اپنی رائے دینی ہے۔ کانگریس۔جے ڈی ایس کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کی تجویز مان لی ہے اور ارکان اسمبلی کی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے ۔ اگر روہتگی بھی مان لیتے ہیں تو کل ہو سکتا ہے فلور ٹیسٹ یعنی کل یدیو رپا کو اپنی اکثریت ثابت کرنی پڑے گی۔مکل روہتگی نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کیا لیکن عدالت نے کہا کہ زیادہ وقت نہیں دیا جا سکتا۔

کیوں نہ کل فلور ٹیسٹ کرایا جائے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کی بنچ نے بی جے پی کے وکیل مکل روہتگی سے سوال کیا کہ بی جے پی کل کیوں ہیں اکثریت ثابت کر سکتی۔ کانگریس کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے بھی کل فلور ٹیس کرائے جانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ کانگریس اور جی ڈے ایس کل فلور ٹیسٹ کرانے کے لئے فیصلے پر متفق ہیں۔ دراصل مکل روہتگی نے کل فلور ٹیسٹ کرانے سے انکار کیا تھا۔

گورنر کو یہ دیکھنا چاہئے تھا کہ کس کے پاس اکثریت ہے: سپریم کورٹ

سماعت کے دوران بینچ نے مکل روہتگی سے کہا کہ گورنر کو یہ دیکھنا چاہئے تھا کہ کس کے پاس حکومت بنانے کے لئے مطلوبہ نمبر ہیں۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ خط میں حمایت دینے والے ارکان کے نام نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں روہتگی نے کہا کہ اس وقت اس کی ضرورت نہیں تھی اور حمایت والا دستخط شدہ لیٹر گورنر کو نہیں دیا گیا۔

کرناٹک معاملے میں عدالت میں روہتگی کے پیش ہونے سے سبرامیم سوامی ناراض

روہتگی نے بحث کا آغاز کیا

روہتگی نے حمایت کے دو خط پیش کئے

سپریم کورٹ نے مکل روہتگی سے یدیو رپا کو دی گئی حمایت کے خط مانگے

سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز

کانگریس کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز ہو چکا ہے۔ کانگریس کی طرف سے سنیئر وکیل کپل سبل پیروی کر رہے ہیں۔

کرناٹک گورنر کے فیصلے پر کچھ دیر میں سماعت

کرناٹک کے گورنر وجو بھائی والا نے بی جے پی رہنما بی ایس یدی یورپا کو وزیر اعلیٰ عہدے کا حلف دلوا دیا لیکن حلف برداری سے قبل کانگریس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسی معاملہ پر سپریم کورٹ آج صبح 10.30 بجے سے سماعت کر رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں بی جے پی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پاس اکثریت کے لئے ضروری ارکان کی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔

یدی یو رپا کو جمعرات کے روز حلف دلوایا گیا تھا لیکن حلف برداری سے تقریباً 4 گھنٹے قبل سپریم کورٹ میں نصف شب سے صبح 5 بجے تک چلی سنوائی میں عدالت نے یہ حکم دیا تھا کہ یدی یورپا جمعہ کے روز صبح عدالت کھلتے ہی اپنے حامی ارکان اسمبلی کی فہرست دستیاب کرائیں۔

سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت 3 ججوں کی بنچ کرے گی۔ اس بنچ میں جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اشوک بھوشن اور جٹس ایس اے بوڈبے شامل ہیں۔ یدی یورپا کو سپریم کورٹ میں اپنے وہ دنوں لیٹر بھی سونپنے ہیں جو انہوں نے 15 اور 16 مئی کو گورنر کو سونپے تھے۔

کرناٹک معاملہ کی سماعت سے کچھ وقت قبل بی جے پی کے وکیل مکل روہتگی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں سپریم کورٹ میں اس لیٹر کو پیش کرنے جا رہا ہوں جسے بی ایس یدی یورپا نے گورنر کو سونپا تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس حمایت حاصل ہے اور وہ اسمبلی میں اسے ثابت بھی کر سکتے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ جیسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
واضح رہے کہ کرناٹک میں 222 سیٹوں پر انتخابات ہوئے تھے جن میں بی جے پی کو 104، کانگریس کو 78 اور جے ڈی ایس کو 38 سیٹیں حاصل ہوئیں۔

میڈیا میں خبر تھی کہ دو آزاد امیدواروں میں سے ایک نے بی جے پی کو حمایت دینے کا اعلان کیا تھا لیکن جمعرات کے روز اس ارکان اسمبلی کو اسمبلی کے سامنے کانگریس اور جے ڈی ایس کی طرف سے دئیے گئے دھرنے میں دیکھا گیا۔

سب سے زیادہ مقبول