کرناٹک: اسکول میں مسلم طلبا کے نمازِ جمعہ پڑھنے پر تنازعہ، تحقیقات کا حکم

ہندو تنظیموں نے سری بلیچ نگپا گورنمنٹ کنڑا اپر پرائمری اسکول کے سامنے مظاہرہ کیا اور ہیڈ مسٹریس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنھوں نے جمعہ کو کلاس روم میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔

نماز، علامتی تصویر یو این آئی
نماز، علامتی تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کولار: کرناٹک میں ضلع کولار کے ایک سرکاری اسکول میں مبینہ طور پر مسلم طلبہ کو کلاس روم میں ہی نماز پڑھنے کی اجازت دینے پر ہندو تنظیموں کے احتجاج اور مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے معاملے کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر امیش کمار نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس معاملے میں ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ایجوکیشن (DDPI) سے وضاحت طلب کی ہے۔

ہندو تنظیموں نے سری بلیچ نگپا گورنمنٹ کنڑا اپر پرائمری اسکول کے سامنے مظاہرہ کیا اور اس کی ہیڈ مسٹریس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جس نے مسلم طلبہ کو جمعہ کے روز کلاس روم میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ ہندو تنظیموں نے اس معاملے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا، انہوں نے کولار تحصیل کے بدلے خود یہ میمورنڈم قبول کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسکول مذہبی پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا ہے۔


سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہندو تنظیموں نے اس واقعے کا نوٹس لیا جس میں مسلم طلبہ کے ایک گروپ کو کلاس روم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس معاملے میں، ہیڈ مسٹریس نے واضح کیا کہ اس نے مسلم طلبہ کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی تاکہ مزید مسلم طلبہ کو اسکول میں داخلہ لینے کی ترغیب دی جا سکے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا مقصد نہیں تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔