کرناٹک: بی جے پی ایم ایل اے کا الزام ’عیسائی مشنریوں نے والدہ کا مذہب تبدیل کرا دیا‘

بی جے پی لیڈر نے اسمبلی میں الزام عائد کیا کہ عیسائی مشنری کی جانب سے درج فہرست ذاتوں اور قبائلیوں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں تو انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی جا رہی ہے

کرناٹک بی جے پی ایم ایل اے / سوشل میڈیا
کرناٹک بی جے پی ایم ایل اے / سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بنگلورو: کرناٹک کے سابق وزیر اور بی جے پی کے رکن اسمنبلی گولی ہٹی شیکھر نے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کے لئے ہوسدرگا اسمبلی حلقہ میں سرگرم عیسائی مشنریوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ عیسائی مشنریوں نے ان کی ماں کو عیسائی مذہب قبول کرا دیا ہے۔

ریاستی اسمبلی کے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’عیسائی مشنریز ہوسدرگا اسمبلی حلقہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب میں ملوث ہیں۔ انہوں نے 18000 سے 20000 افراد کو ہندو مذہب سے عیسائیت میں تبدیل کر دیا ہے۔ عیسائی مشنریوں نے میری والدہ کا مذہب بھی تبدیل کر دیا ہے اور اب انہیں پیشانی پر سندور نہیں لگانے کو کہا گیا ہے۔


شیکھر نے کہا، ’’میری والدہ کے سیل فون کی رنگ ٹون میں بھی عیسائی دعائیں سنائی دیتی ہیں۔ ہمیں گھر میں پوجا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اگر ہم انہیں کچھ بتانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کہتی ہے کہ وہ اپنی زندگی ختم کر لیں گی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں کام کرنے والے مسیحی مشنریوں نے ان کی ماں کو دعا کے لیے بلایا اور کہا کہ وہ بہتر محسوس کریں گی اور انہیں پھنسا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں گھر میں ہندو دیوتاؤں کی تصاویر اور پوجا کے کمرے میں رکھی ہوئی چیزیں بھی پسند نہیں ہیں۔


بی جے پی لیڈر نے اسمبلی میں الزام عائد کیا کہ عیسائی مشنری کی جانب سے درج فہرست ذاتوں اور قبائلیوں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں تو انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی جا رہی ہے، حکومت کو اس سلسلے میں ایکشن لینا چاہیے۔

وہیں، تبدیلی مذہب کی بات کرتے ہوئے لفظ 'چرچ' کے استعمال پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر کے جے جارج نے کہا کہ تمام گرجا گھروں کو اس میں شامل کرنا اور کچھ گرجا گھروں کی غلطی پر ان کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ اس کے بعد اسپیکر وشویشور ہیگڈے کیگیری نے کے جے جارج اور گولی ہٹی شیکھر کے الزامات کو عام تناظر میں نہیں رکھنے کی ہدایت کی۔

ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ اراگا گیانندر نے کہا کہ لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرنا قابل سزا جرم ہے۔ تبدیلی مذہب ریاست اور ملک میں ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اس معاملے میں قانونی کارروائی شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اس خطرے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے دیگر ریاستوں کے تبدیلی مذہب سے متعلق قوانین کا بھی مطالعہ کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔