کرناٹک: یدیو رپا کی حلف برداری پر اسٹے نہیں،سنوائی کل صبح 10.30 بجے

اسٹے نہ ہونے کے باوجود کانگریس کی پوزیشن مضبوط

سپریم کورٹ سے یدیورپا کی حلف برداری پر بھلے ہی اسٹے نہیں دیا ہو لیکن عدالت کے رخ سے کانگریس کی پوزیشن مضبوط نظر آ رہی ہے کیونکہ اگر گورنر نے صرف 104ایم ایل اے کے دستخط ہوئے لیٹر پر حلف کے لئے مدعو کیا ہے تو عدالت مداخلت کر کے کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کے حق میں فیصلہ دے سکتی ہے.یدیورپا کی پریشانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

حلف لینے کے با وجود یدیو رپا کی پریشانیاں ختم نہیں ہوں گی

اگر یدیو رپا کے لیٹر پر 111ایم ایل اے کے دستخط نہیں ہوئے تو حلف برداری غیر قانونیہو سکتی ہے

عدلیہ اب یدیو رپا کے اس لیٹر کے مطابق فیصلہ لیگی جس کی بنیاد پر گورنر نے حلف کے لئے بلایا

فریقین کو جواب کے لئے ایک دن کا وقت دیا

سپریم کورٹ نے حلف برداری پر اسٹے نہیں دیا مگر یہ واضح کر دیا کہ حلف برداری کے بعد سپریم کورٹ اس میں مداخلت کرے گی اور ایک دن میں سب طے ہو جائے گا کہ کرناٹک میں آئینی طور پر کیا ہونا ہے۔ عدالت نے وہ لیٹر مانگا جس کی بنیاد پر گورنر نے حلف برداری کے لئے یدیو رپا کو مدعو کیا ہے۔

سنوائی جمعہ کو صبح 10.30بجے ہوگی

عدالت نے حلف برداری پر اسٹے نہیں دیا لیکن یدیو رپا سے دوپہر 2بجے تک حمایت کا لیٹر دینے کو کہا

کم از کم تین گھنٹے کے لئے حلف برداری ملطوی کر دیں: سنگھوی

سب کو ساری رات کیوں جگانا چاہتے ہیں، یہ یعقوب میمن کا معاملہ نہیں ہے: روہتگی

صرف تین گھنٹے کے لئے حلف برداری ملطوی کر دیں: سنگھوی

دن میں سنوائی پھر ہو گی

حلف برداری صبح 9.30بجے کی جگہ شام 4.30بجے ہو: سنگھوی

یدیورپا کی حلف برداری کو روکنے سے سپریم کورٹ کا انکار

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ کرناٹک میں یدیو رپا کی حلف برداری پر اسٹے نہیں دیا جا سکتا اور حلف برداری طے شدہ وقت پر ہی ہوگی۔ بینچ نے کہا کہ وہ گورنر کے فیصلہ پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے کیونکہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو گورنر کےفیصلے کے خلاف فیصلہ لے۔

عدلیہ حلف برداری نہیں روک سکتی: روہتگی

ابھیشیک منو سنگھوی نے گورنر کے اقدام پر اٹھائے سوال

سپریم کورٹ میں جسٹس سیکری کی قیادت میں تین رکنی بینچ کرناٹک معاملے کی سنوائی کر رہی ہے جس میں معروف وکیل ابھیشیک منو سنگھوی یدیو رپا کی حلف برداری پر اسٹے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی گورنر کے فیصلہ کا دفاع کر رہے ہیں۔ روہتگی کا کہنا ہے کہ گورنر اپنے فیصلے کے لئے عدلیہ کو جواب دہ نہیں ہیں ان کو اس امیونٹی حاصل ہے۔

بی ایس یدیو رپا کی حلف برداری رکوانے کے لئے کانگریس کی سپریم کورٹ میں دستک

جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی کہ کرناٹک کے گورنر نے بی جے پی کے بی ایس ید یو رپا کو صبح حلف کے لئے مدعو کیا ہے کانگریس اور جے ڈی ایس متحرک ہو گئے اور دونوں نے گورنر کے فیصلے پر اسٹے لینے کے لئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار دفتر میں عرضہ داخل کی اور گزارش کی کہ مسئلہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا رات کو ہی اس مسئلہ کو سنے اور فیصلہ دیں۔ کانگریس کی جانب سے راجیہ سبھا رکن اور معروف وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے سابق وزیر اعظم دعو گوڑا اور کانگریس کے پرمیشور کی جانب سے عرضی داخل کی ہے۔ اس سے قبل سینئر وکیل اور سابق وزراء پی چدامبرم اور کپل سبل نے پریس کانفرنس بلا کر گورنر کی سخت الفاظ میں تنقید کی۔دیو گوڑا اور کانگریس کے پرمیشور کی جانب سے ابھیشیک منو سنگھوی نے جو عرضی داخل کی ہے اس میں مطالبہ کیا ہے کہ حلف کو روکا جائے اور اکثریت ثابت کرنے کے لئے 15روز کی مدت کم کی جائے۔ انہوں نے کہا گورنر کا فیصلہ دراصل خرید و فروخت کرنے کی کھلی اجازت ہے۔

جمعرات کی صبح 9 بجے ہوگی یدیورپّا کی حلف برداری

گورنر وجوبھائی والا کے ذریعہ یدیورپا کو حکومت سازی کے لیے مدعو کیے جانے سے جے ڈی ایس-کانگریس اتحاد کو زبردست دھچکا لگا ہے۔ گورنر کا خط ملنے کے بعد بی جے پی لیڈروں میں خوشی کا ماحول ہے۔ بی جے پی لیڈر بسوراج بومئی کے مطابق بی جے پی حکومت بنانے کے لیے گورنر کا دعوت نامہ مل چکا ہے اور یدیورپا جمعرات کی صبح 9 بجے حلف لیں گے۔ بومبئی نے میڈیا سے یہ بھی بتایا کہ گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا ہے۔

اکثریت ثابت کرنے کے لیے یدیورپّا کو ملا 15 دن کا وقت

گورنر وجوبھائی والا نے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ امیدوار بی ایس یدیورپا کو خط لکھ کر انھیں حکومت سازی کے لیے مدعو کیا ہے۔ اپنے اس خط میں گورنر نے انھیں 15 دن کے اندر اکثریت ثابت کرنے کی بات کہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس نے اپنے سبھی ممبران اسمبلی کو ایگلٹن ریسورٹ میں رکھا ہوا ہے اور 15 دن تک انھیں وہاں رکھنا ممکن ہو پائے گا یا نہیں، یہ دیکھنے والی بات ہے۔

کانگریس ممبران اسمبلی ایگلٹن ریسورٹ پہنچے

کانگریس نے بی جے پی کے ذریعہ خرید و فروخت کی کوششوں کو روکنے کے مقصد سے اپنے سبھی ممبران اسمبلی کو ایگلٹن ریسورٹ میں رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ سبھی ممبران اسمبلی ریسورٹ پہنچ چکے ہیں۔

بی جے پی بغیر خرید و فروخت کے ضروری نمبر کیسے حاصل کرے گی: چدمبرم

کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے پریس کانفرنس میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا بی جے پی کی اقلیتی حکومت بغیر ممبران اسمبلی کو خریدے اکثریت حاصل کر سکتی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی پارٹی کے پاس ضروری نمبر نہیں ہے اور وہ اکثریت ثابت کر دے۔ اس کے لیے تو کسی دوسری پارٹی کے ممبران اسمبلی کو خریدنے کی کوشش ہی کی جائے گی۔

یدیورپّا کو حکومت سازی کا موقع دیں گے گورنر!

بی جے پی کرناٹک نے ایک ٹوئٹ کیا جس میں اس نے لکھا کہ بی ایس یدیورپا کل صبح 9.30 بجے حلف برداری کریں گے۔ لیکن ٹوئٹ کے کچھ ہی منٹوں کے بعد اس نے ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دیا۔ اس ٹوئٹ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بی ایس یدیورپا کی حلف برداری کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور جے ڈی ایس-کانگریس اتحاد کو گورنر وجوبھائی والا حکومت سازی کے لیے مدعو کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

ماضی میں سب سے بڑے اتحاد کو حکومت سازی کا موقع دیا گیا: کپل سبل

کپل سبل نے کانگریس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کئی ریاستوں میں سب سے بڑے اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے بلایا گیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت واضح ہے۔ گورنر کو آئین پر عمل کرنا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس اکثریت ہے لیکن گورنر ہمیں حکومت بنانے کے لیے نہیں بلا کر بی جے پی کو خرید و فروخت کا موقع دے رہے ہیں۔

کرناٹک میں موجودہ سیاسی ماحول کے مدنظر کانگریس کی پریس کانفرنس

کرناٹک میں سیاسی ماحول پوری طرح گرما گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جے ڈی ایس-اور کانگریس اتحاد کے پاس اکثریت ہے اس لیے بی جے پی کو حکومت سازی کے لیے مدعو نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں دہلی میں کانگریس ایک پریس کانفرنس کر رہی ہے جس میں پی چدمبرم، رندیپ سنگھ سرجے والا اور کپل سبل خطاب کر رہے ہیں۔

گورنر یدیورپا کو حکومت سازی کے لیے مدعو کریں گے!

ایک طرف کماراسوامی نے جے ڈی ایس اور کانگریس ممبران اسمبلی کی حمایت پر مبنی خط گورنر کو سونپ دیا ہے دوسری طرف خصوصی ذرائع سے یہ اطلاع موصول ہو رہی ہے کہ گورنر بی جے پی لیڈر بی ایس یدیورپا کو حکومت بنانے کے لیے مدعو کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یدیورپا جمعرات کی دوپہر وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیں گے۔ اس کے لیے بی جے پی کے ساتھ ساتھ یدیورپا بھی گورنر کے فیکس کا انتظار کر رہے ہیں۔

کانگریس کا سبھی ممبران اسمبلی کو ایک ساتھ رکھنے کا فیصلہ

کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے میڈیا سے کہا ہے کہ ہوٹل میں رہیں یا کہیں اور لیکن سبھی ممبران اسمبلی ایک ساتھ رہیں گے اور صورت حال پر تبادلہ خیال ہوتا رہے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس سبھی ممبران اسمبلی کو ساتھ رکھنا چاہتی ہے کیونکہ خرید و فروخت کی کوششیں جاری ہیں۔

کانگریس لیڈر کولیواڈ نے سدارمیّا پر پارٹی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں دوسرے نمبر کی پارٹی بننے کے بعد کانگریس لیڈروں کے درمیان الزامات کا دور بھی شروع ہو گیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے سابق اسپیکر کے بی کولیواڈ نے سدارمیا کو شکست کے لیے سیدھے طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کولیواڈ ’رانے بینور‘ سیٹ سے آزاد امیدواروں کے ہاتھوں 6000 ووٹوں سے ہار گئے ہیں۔ شکست کے بعد کولیواڈ نے کہا کہ کانگریس کو سدارمیا سے پارٹی کی ذمہ داری واپس لے لینی چاہیے۔

ہمارے سبھی ممبران اسمبلی ہمارے ساتھ: کانگریس لیڈر شیو کمار

کانگریس لیڈر شیو کمار کا کہنا ہے کہ گورنر نے انھیں یقین دلایا ہے کہ آئین کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ لیا جائے گا۔ ہمیں ان پر بھروسہ ہے، وہ ناانصافی نہیں کریں گے۔ شیوکمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ہمارے پاس نمبر ہے، ایک بھی ممبر اسمبلی اِدھر سے اُدھر نہیں ہوا۔ ہم ایسا کچھ بھی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

کماراسوامی کی گورنر سے ملاقات ختم

جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی کی گورنر وجوبھائی والا سے ملاقات ختم ہو گئی ہے۔ ملاقات کے بعد کماراسوامی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر نے انھیں ماہر قانون سے مشورہ کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لینے کی بات کہی ہے۔ کماراسوامی نے میڈیا سے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے ضروری کاغذات اور 117 ممبران اسمبلی کے دستخط پر مبنی فہرست گورنر کو سونپ دیا ہے۔

راج بھون پر جے ڈی ایس کارکنان کا احتجاج

جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) کارکنان راج بھون پر بی جے پی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بنگلورو واقع راج بھون پر جے ڈی ایس کارکنان بی جے پی کے خلاف نعرہ بازی بھی کر رہے ہیں۔

جے ڈی ایس-کانگریس ارکان اسمبلی کا راج بھون کے باہر دھرنا

جے ڈی ایس اور کانگریس اتحاد کے ارکان اسمبلی ایچ ڈی کماراسوامی کی قیادت میں کرناٹک راج بھون پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے دھرنا دینا شروع کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اتحاد کے رہنماؤں نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ اگر گورنر وجو بھائی والا نے انہیں حکومت سازی کے لئے مدعو نہیں کیا تو راج بھون پر دھرنا دیا جائے گا۔

کانگریس-جے ڈی ایس ارکان اسمبلی گورنر سے ملاقات کے لئے روانہ

کانگریس کے ارکان اسمبلی کرناٹک کے گورنر سے ملاقات کے لئے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے بنگلورو واقع صدر دفتر سے روانہ ہو چکے ہیں۔ ادھر جے ڈی ایس کے ارکان اسمبلی بھی گورنر سے ملاقات کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔ دونوں پارٹیوں کے ارکان ایچ ڈی کماراسوامی کی قیادت میں راج بھون پہنچے والے ہیں جہاں وہ گورنر کے سامنے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اگر گورنر نے جے ڈی ایس-کانگریس کو حکومت سازی کے لئے مدعو نہیں کیا تو وہ راج بھون کے سامنے دھرنے پر بیٹھ سکتے ہیں۔

جے ڈی ایس-کانگریس رہنما 5 بجے گورنر سے ملیں گے

ذرائع کے حوالہ سے خبر ہے کہ بی جے پی اپنے ارکان اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچانے کی پوری کوشش کرنے لگی ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ بی جے پی کے تمام ارکان اسمبلی کو کسی ریزارٹ میں ٹھہرایا جائے گا اور کسی باہری شخص سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جی ڈی ایس اور کانگریس کے رہنما 5 بجے گورنر سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔

گورنر نے نہیں بلایا تو دھرنا دیں گے، کانگریس

کانگریس کے رہنما لگاتار کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا کی طرف سے انہیں ملاقات کے لئے وقت نہ دینے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ دریں اثنا ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ اگر گورنر نے انہیں نہ بلایا تو جے ڈی ایس-کانگریس کے رہنما راج بھون کے باہر دھرنے پر بیٹھ جائیں گے۔

ادھر کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا، ’’دوپہر 12-12.30 بجے سے ہم گورنر سے ملاقات کی اجازت مانگ رہے ہیں تاکہ اپنے کو خطوط انہیں سونپ سکیں۔ اب تک گورنر کی طرف سے کوئی پیغام نہیں ملا ہے۔‘‘

وزیر اعظم خرید و فروخت کو بڑھاوا دے رہے ہیں، سدا رمیا

کرناٹک میں اقتدار کے لئے جدو جہد جاری ہے اسی بیچ سدرمیا نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سیدھا حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کرناٹک میں خرید و فروخت کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

ساتھ ہی سدارمیا نے کرناٹک کے عوام سے ان کی پارٹی کو مینڈیٹ دینے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا، ’’مینڈیٹ دینے کے لئے آپ کا شکریہ۔ 5 سالوں تک آپ کی خدمت کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ےہ۔ مجھے پورا یقین ہے کہ کانگریس پارٹی اور نئی حکومت ریاست کے عوام کے حق میں بہتری کے کاموں کو جاری رکھے گی۔

ادھر جے ڈی ایس کے تمام ارکان نے اس فہرست پر دستخط کر دئے ہیں جس میں سبھی نے ایچ ڈی کماراسوامی کو وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی حمایت کی ہے اور جسے آج ہی گورنر کو سونپا جانا ہے۔

کانگریس کے رہنما شیو کمار نے ارکان اسمبلی کے ٹوٹنے کی خبروں کو بکواس قرار دیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ بننے کے حوالے سے میڈیا میں چل رہی خبروں کے تعلق سے انہوں نے کہا، ’’کچھ مانگنے کا سوال نہیں اٹھتا۔ ہماری ترجیح ابھی سیکولر حکومت بنانے کی ہے۔ ہمارے تمام 78 ارکان اسمبلی متحد ہیں۔‘‘

میٹنگ سے غیر حاضر رہے کانگریس کے ارکان اسمبلی پارٹی کے ساتھ

بنگلورو میں کانگریس ارکان اسمبلی پارٹی کے اجلاس سے غیر حاضر رہے تمام ارکان اسمبلی واپس آ گئے ہیں۔ خبروں کے مطابق تمام ارکان اسمبلی پارٹی کے ساتھ ہیں۔

واضح رہے کہ ارکان اسمبلی کے اجلاس میں 78 ارکان میں سے 66 نے شرکت کی تھی جبکہ 12 غیر حاضر رہے تھے۔ اس کے بعد سے کئی طرح کے سوالات کئے جا رہے تھے۔

دریں اثنا کانگریس نے ایک ٹوئٹ کر کے بی جے پی کا مذاق اڑایا ہے۔ ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے، ’’بی جے پی کا مقصد: کسی بھی طرح اقتدار پر قبضہ کرو۔‘‘

کماراسوامی کا بڑا الزام، بی جے پی نے فی ایم ایل اے 100 کروڑ کا آفر دیا

جے ڈی ایس رہنما اور اتحاد کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار ایچ ڈی کماراسوامی نے بی جے پی پر بڑا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لگاتار ان کے ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے اور بڑی رقم کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں انہیں جے ڈی ایس ارکان اسمبلی پارٹی کا رہنما منتخب کر لیا گیا ہے۔

کماراسوامی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’جے ڈی ایس ارکان اسمبلی کو فی ایم ایل اے 100 کروڑ روپے دینے کا آفر دیا گیا۔ ان کے پاس رقم کہاں سے آ رہی ہے؟ ممکنہ طور پر وہ غریب لوگوں کا پیسہ آفر کر رہے ہیں۔ انکم ٹیکس کے افسران آج کہاں ہیں؟‘‘

کماراسوامی نے کہا کہ انہیں دونو جانب (بی جے پی اور کانگریس) کی طرف سے آفر دیا گیا تھا۔ اپنے کیرئر کے دوران 2004 اور 2005 میں دو مرتبہ بی جے پی کے ساتھ جانے کی وجہ سے میرے والد کے کیرئر پر سیاہ داغ لگ گیا تھا۔ آج خدا نے مجھے موقع دیا ہے کہ میں وہ سیاہ داغ دھو ڈالوں۔ اس لئے میں کانگریس کے ساتھ گیا۔‘‘

کماراسوامی نے کہا کہ بی جے پی جیت کا سفر شمال سے شروع ہوا لیکن جنوب میں ان کا یہ سفر رُک گیا ہے۔

کماراسوامی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بات بھول جائیں کہ بی جے پی کا آپریشن کمل کامیاب ہوگا کیوں کہ بی جے پی کے کئی لوگ ہمارے ساتھ آنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے ایک آدمی کو توڑنے کی کوشش کریں گے تو ہم آپ کے دوگنے آدمی توڑ لیں گے۔ میں گورنر سے بھی اپیل کروں کہ ایسا فیصلہ نہ کریں جو خرود و فروخت کا موقع فراہم کرے۔‘‘

یدی یورپا نے حکومت سازی کا دعوی پیش کیا

کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے ایک دن بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان زبردست رسہ کشی کا ماحول جاری ہے۔ اسی بیچ بی جے پی کے وزیر اعلی عہدے کے امیدوار یدی یورپا نے گورنر سے ملاقات کی۔ گورنر سے ملاقات کے بعد یدی یورپا نے کہا، ’’میں نے گورنر کو خط سونپ دیا ہے اور وہ مجھے مدعو کریں گے (حکومت سازی کے لئے)، ایسی مجھے امید ہے۔ جیسے ہی گورنر کی طرف سے مجھے خط موصول ہوگا میں آپ کو بتا دیا جائے گا۔‘‘

ادھر جے ڈی ایس رہنما ’اے منجو ناتھ‘ نے کہا، ’’ایچ ڈی کماراسوامی وزیر اعلیٰ ہوں گے اور اتحاد (کانگریس-جے ڈی ایس) کی حکومت بنے گی۔ لوگ انہیں وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں۔ جو کچھ بھی چل رہا وہ چلتا رہے گا لیکن آخر میں وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی ہی بنیں گے۔ ہم کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔‘‘

ہر کسی کی نگاہیں گورنر پر مرکوز

کرناٹک اسمبلی انتخابات کی ووٹ شماری اختتام پزیر ہو چکی ہے اور کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ بی جے پی حالانکہ 104 سیٹیں لے کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن اکثریت کے ہدف سے وہ بھی دور رہ گئی۔ کانگریس-جی ڈی ایس کے اتحاد کر لینے کے بعد ان کے پاس 116 سیٹیں ہو گئیں۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ جے ڈی ایس-کانگریس کے ارکان اسمبلی ان کے رابطے میں ہیں، وہیں کانگریس اور جے ڈی ایس کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے ارکان اسمبلی پر مکمل اعتماد ہے۔ جے ڈی ایس اور کانگریس کے رہنماؤں لگاتار اجلاس کر کے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ہیں۔

دوسری طرف بی ایس یدی یورپا کو بی جے پی کے ارکان اسمبلی پارٹی کا رہنما منتخب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ کل یعنی جمعرات کو حلف اٹھا لیں گے۔ ارکان اسمبلی پارٹی اجلاس کے بعد یدی یورپا اور پرکاش جاوڈیکر گورنر سے ملاقات کے لئے راج بھون پہنچے ہیں۔

کرناٹک میں افرا تفری کا ماحول جاری

یدی یورپا بی جے پی ارکان اسمبلی کے رہنما منتخب

بی جے پی کر وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار بی ایس یدی یورپا کو بی جے پی ارکان اسمبلی پارٹی کا رہنما منتخب کر لیا گیا ہے۔ جس کے بعد وہ کرناٹک کے گورنر وجو بھائی سے ملنے کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی گورنر کے سامنے حکومت سازی کا دعوی پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق گورنر بھی بی جے پی کو ہی حکومت سازی کی دوعت دیں گے۔ اس صوت میں یدی یورپا جمعرات یعنی 17 مئی کو حلف اٹھا سکتے ہیں۔

ہمارا فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا: کماراسوامی

کرناٹک کے بنگلورو شہر میں جے ڈی ایس ارکان اسمبلی کا اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ اجلاس سے قبل جے ڈی ایس کے رہنما اور کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار ڈی کماراسوامی نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’ہم کانگریس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اس لئے ہم نے جے ڈی ایس کے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اب ہمارا فیصلہ تبدیل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

ہمیں بعض کانگریسی اور جے ڈی ایس ارکان کی حمایت حاصل:ایشورپا

کرناٹک بی جے پی کے سینئر لیڈر ایشورپا نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کانگریس اور جے ڈی ایس کے بعض ارکان اسمبلی سے رابطہ میں ہے کیونکہ انہیں امید ہے کہ ریاست میں حکومت کی تشکیل کے لئے اکثریت حاصل ہوجائے گی۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جے ڈی ایس اور کانگریس کے کئی ارکان اسمبلی، جے ڈی ایس اورکانگریس کی حکومت بنائے جانے پر برہم ہیں، وہ بی جے پی کے ساتھ آجائیں گے۔ ہمیں بعض کانگریس اور جے ڈی ایس ارکان کی حمایت حاصل ہے

انہوں نے دعوی کیا کہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنائے گی۔ ایشورپا نے کہا کہ اس میں کسی بات کا شبہ نہیں ہے۔ صدفیصد ہم ہی حکومت بنائیں گے۔ انتظار کریئے اور دیکھئے۔

بی جے پی نے وزیر بنانے کا لالچ دیا، کانگریس رکن اسمبلی کا دعویٰ

بی جے پی، جے ڈی ایس اور کانگریس کی طرف سے حکومت سازی کے لئے جدوجہد جاری ہے۔ بی جے پی رہنما کے ایس ایورپا نے کہا ہے کہ کانگریس-جے ڈی ایس کے کچھ ارکان اسمبلی ان کے رابطہ میں ہیں۔ وہیں کانگریس کے ایک رکن اسمبلی کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کی طرف سے انہیں وزیر بنانے کا لالچ دیا گیا ہے۔ کانگریس نے اس تعلق سے الزام عائد ہوا ہے کہ بی جے پی اس کے ارکان اسمبلی کو توڑ رہی ہے۔

بی جے پی گورنر پر دباؤں بناتی ہے: جے ڈی ایس

جے ڈی ایس کے ترجمان دانش علی نے کہا کہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے پاس اکثرت کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو اپنے آئینی عہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ایچ ڈی کماراسوامی کو حکومت سازی کے لئے مدعو کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا اگر بی جے پی گورنر پر دباؤ بناتی ہے تو یہ جمہوریت کا قتل ہوگا۔

’جے دی ایس-کانگریس کو اپنے ارکان اسمبلی پر مکمل اعتماد‘

کانگریس رہنما رامالنگا ریڈی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں اپنے ارکان اسمبلی پر مکمل اعتماد ہے۔ بی جے پی تمام کوشش کر رہی ہے کیوں کہ اسے جمہوریت پر یقین نہیں ہے۔ بی جے پی کو صرف اقتدار چاہئے۔‘‘

قبل ازیں غلام نبی آزاد نے کہا، ’’جی ڈی ایس کو اپنے ارکان اسمبلی پر پورا بھروسہ ہے، کوئی ایم ایل اے کہیں نہیں جا رہا ہے۔‘‘

کرناٹک میں حکومت سازی کے لئے سرگرمیاں

کانگریس کے اعلیٰ عہدیداران کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر میں 78 ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس کرنے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں سدارمیا اور کانگریس کا مرکزی وفد بھی شامل ہوگا۔

بی جے پی کے وزیر اعلیٰ عہدے کے امیدوار بی ایس یدی یورپا کی قیادت میں 11 بجے پارٹی ارکان اسمبلی کا اجلاس ہوگا۔ اس دوران 104 ارکان اسمبلی کے موجود رہنے کا امکان ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر دفتر میں ہونے والے اس اجلاس میں مرکز کے نمائندگان بھی موجود رہیں گے۔

224 میں سے فی الحال 222 اراکین اسمبلی میں کسی بھی پارٹی کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے اور حکومت سازی کے لیے دو پارٹیوں کا اتحاد ضروری ہے۔ کانگریس نے جے ڈی ایس سے ہاتھ ملا کر مقابلہ دلچسپ بنا دیا ہے۔

اس دوران ہر کسی کی نگاہیں گورنر پر مرکوز ہیں کہ وہ حکومت سازی کے لئے کون سی پارٹی کو مدعو کرتے ہیں۔ گورنر کے پاس اب دو متبادل ہیں، پہلا یہ کہ وہ سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کو مدعو کریں اور اکثریت ثابت کرنے کو کہیں۔ یا پھر جی ڈی ایس-کانگریس اتحاد کو حکومت سازی کے لئے بلائیں۔

آئین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پوری طرح سے گورنر پر منحصر ہے کہ وہ حکومت سازی کے لئے سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کو مدعو کرتے ہیں یا پھر جے ڈی ایس-کانگریس اتحاد کو۔

راہل نے کرناٹک کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا

کانگریس صدر راہل گاندھی نے پارٹی کو ووٹ ڈالنے کے لۓ کرناٹک کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پارٹی ان کے مفادات کے لئے لڑ ائی جاری رکھے گی۔

گاندھی نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’’کرناٹک کانگریس پارٹی کے لوگوں کا تعاون کے لئے شکریہ۔ انہوں نے پارٹی کوووٹ دینے کے لۓ ووٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا۔‘‘ راہل گاندھی نے پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا بھی انتخابات کے دوران سخت محنت کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول