کارگل وجے دیوس: پاکستان پر ہندوستان کی فتح کا دن، پڑھیے کب کیا ہوا

آج ’وجے دیوس‘ ہے۔ آج ہی کے دن 19 سال قبل ہندوستان نے کارگل جنگ میں پاکستان کو شکست فاش دی تھی۔ اسی لیے 26 جولائی کو ہر سال ’وجے دیوس‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کارگل جنگ 26 جولائی 1999 کو ختم ہوئی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کارگل جنگ ہندوستانی فوج کی طاقت اور جانبازی کی ایک ایسی مثال ہے جس پر ملک کو فخر ہے۔ خون جما دینے والی سردی میں تقریباً 18 ہزار فٹ کی اونچائی پر کارگل میں لڑی گئی اس جنگ میں ملک نے اپنے 527 سے زیادہ بہادر جوانوں کی شہادت پیش کی تھی جب کہ 1300 سے زیادہ نوجوان ملک کے لیے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان نے اس جنگ کی شروعات 3 مئی 1999 کو کرتے ہوئے کارگل کی اونچی پہاڑیوں پر 5000 فوجیوں کے ساتھ دراندازی کی تھی اور وہاں قبضہ جما لیا تھا۔ اس کے جواب میں ہندوستان نے ’آپریشن وجے‘ چلایا۔ ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے خلاف مگ-27 اور مگ-29 کا بھی استعمال کیا۔ اس کے بعد جس جگہ پاکستان نے قبضہ کیا تھا، وہاں بم گرائے گئے۔ اس کے علاوہ مگ-29 کی مدد سے پاکستان کے کئی ٹھکانوں پر آر-77 میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔

کارگل جنگ میں بڑی تعداد میں راکٹ اور بموں کا استعمال کیا گیا۔ لڑائی کے دوران ڈھائی لاکھ گولے داغے گئے، 5000 سے زیادہ بم فائر کرنے کے لیے 300 سے زیادہ مورٹار، توپوں اور راکٹوں کا استعمال کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کارگل جنگ ہی ایسی جنگ تھی جس میں دشمن ملک کی فوج پر اتنی بڑی تعداد میں بمباری کی گئی تھی۔

کارگل جنگ کے شروع سے آخر تک کب کیا ہوا، دیکھیں یہ ٹائم لائن:

  • 3 مئی 1999: ایک بکروال (چرواہے) نے ہندوستانی فوج کو کارگل میں پاکستان فوج کے ذریعہ دراندازی اور قبضہ کی خبر دی۔
  • 5 مئی: ہندوستانی فوج کی پیٹرولنگ ٹیم جانکاری لینے کے لیے کارگل پہنچی تو پاکستانی فوج نے انھیں حراست میں لے لیا اور ان میں سے 5 کا قتل کر دیا۔
  • 9 مئی: پاکستانیوں کی گولہ باری سے ہندوستانی فوج کا کارگل میں موجود گولہ بارود کا ذخیرہ ختم ہوگیا۔
  • 10 مئی: پہلی بار لداخ کے داخلی دروازہ یعنی دراس، کاکسار اور مشکوہ سیکٹر میں پاکستانی دراندازوں کو دیکھا گیا۔
  • 26 مئی: ہندوستانی فضائیہ کو کارروائی کے لیے حکم دیا گیا۔
  • 27 مئی: کارروائی میں ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے خلاف مگ-27 اور مگ-29 کا بھی استعمال کیا۔
  • 28 مئی: ایک مگ-17 ہیلی کاپٹر پاکستان کی توپ کی زد میں آ گیا۔ اس میں چار ہندوستانی فوجی شہید ہوئے۔
  • یکم جون: این ایچ-1 اے پر پاکستان کی طرف سے زبردست گولہ باری کی گئی۔
  • 5 جون: پاکستانی رینجرس سے ملے کاغذات کو ہندوستانی فوج نے اخباروں کے لیے جاری کیا جس میں پاکستانی رینجرس کے موجود ہونے کا ثبوت تھا۔
  • 6 جون: ہندوستانی فوج نے پوری طاقت سے جوابی کارروائی شروع کر دی۔
  • 9 جون: بالٹک علاقے کی 2 چوکیوں پر ہندوستانی فوج نے پھر سے قبضہ کر لیا۔
  • 11 جون: ہندوستان نے جنرل پرویز مشرف کی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان سے بات چیت کی ریکارڈنگ جاری کی جس سے صاف ہوا کہ اس دراندازی میں پاکستانی فوج کا ہاتھ ہے۔
  • 13 جون: ہندوستانی فوج نے دراس سیکٹر میں تولنگ پر قبضہ کر لیا۔
  • 15 جون: امریکی صدر بل کلنٹن نے پرویز مشرف سے فون پر کہا کہ وہ اپنی فوج کو کارگل سیکٹر سے باہر بلا لیں۔
  • 29 جون: ہندوستانی فوج نے ٹائیگر ہل کے نزدیک دو اہم چوکیوں پوائنٹ 5060 اور پوائنٹ 5100 پر پھر سے قبضہ کر لیا۔
  • 2 جولائی: ہندوستانی فوج نے کارگل پر تین جانب سے حملہ شروع کر دیا۔
  • 4 جولائی: ہندوستانی فوج نے ٹائیگر ہل پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا۔
  • 5 جولائی: ہندوستانی فوج نے دراس سیکٹر پر اپنا قبضہ حاصل کیا۔ اس کے فوراً بعد پاکستان کے وزیر اعظم نے بل کلنٹن کو بتایا کہ وہ کارگل سے اپنی فوج کو ہٹا رہے ہیں۔
  • 7 جولائی: ہندوستانی فوج نے بٹالک میں جُبر ہل پر قبضہ حاصل کر لیا۔
  • 11 جولائی: پاکستانی رینجرس نے بٹالک سے بھاگنا شروع کر دیا۔
  • 14 جولائی: وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے آپریشن وجے کی فتح کا اعلان کر دیا۔
  • 26 جولائی: وزیر اعظم نے اس دن کو ’وجے دیوس‘ کی شکل میں منائے جانے کا اعلان کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔