قومی

جموں و کشمیر: کاروان امن بس سروس ساتویں ہفتے بھی معطل، لوگ پریشان

کمان پوسٹ پر پُل کی مرمت ابھی بھی جاری ہے جس کے پیش نظر سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان چلنے والی کاروان امن بس سروس اور آر پار تجارت کو پیر کے روز لگاتار ساتویں ہفتے بھی بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: سری نگر اور پاکستان زیر قبضہ کشمیر کی راجدھانی مظفر آباد کے درمیان چلنے والی کاروان امن بس سروس اور آر پار تجارت پیر کے روز مسلسل ساتویں ہفتے بھی معطل رہی۔ بس اور تجارت کی معطلی کی وجہ سے سرحد کے آرپار درماندہ افراد اور تاجر پریشان حال ہیں اور سروسز کی فوری بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ دریں اثنا پونچھ راولاکوٹ بس سروس جس کو گذشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کی وجہ سے معطل کیا گیا، پیر کے روز بحال ہوئی۔

ضلع مجسٹریٹ پونچھ راہل یادو نے بتایا 'پونچھ راولاکوٹ بس سروس آج بحال ہوئی۔ یہاں سے مہمان واپس اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے جبکہ خطہ جموں کے رہائشی جو پاکستان زیر قبضہ کشمیر میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے وہاں گئے ہوئے تھے، واپس اپنے گھر آگئے'۔

ادھر سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ کمان پوسٹ پر پُل کا مرمتی کام ابھی بھی جاری ہے جس کے پیش نظر سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان چلنے والی کاروان امن بس سروس اورطرفین کے درمیان آر پار تجارت کو پیر کے روز لگاتار ساتویں ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کاروان امن بس سروس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کو بس کی معطلی کے بارے میں پہلے ہی مطلع کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 4 مارچ کو بس سروس ہیرتھ تہوار کے پیش نظر بند تھی بعد ازاں کمان پوسٹ پر پل کا مرمتی کام جاری رہنے کی وجہ سے بس سروس لگاتار معطل ہے جبکہ سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان آر پار تجارت بھی 8 مارچ سے معطل ہے۔

دریں اثنا اس تجارت سے وابستہ تاجروں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرمتی کام کی وجہ سے پل بند رہنے سے نہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایک تاجر نے کہا کہ اس تجارت کے ساتھ وابستہ قریب تین سو تاجروں اور ہزاروں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور تجارت معطل رہنے کے باعث تازہ اسٹاک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار بس سروس کا آغاز 7 اپریل 2005 کو ہوا تھا اور تب سے اس کے ذریعے ہزاروں لوگ آرپار اپنے عزیز واقارب سے ملے ہیں۔ جبکہ آر پار کے تاجروں کے درمیان تجارت کا سلسلہ 2008 ءسے جاری ہے۔ یہ تجارت ہفتے میں چار دن منگل سے لیکر جمعہ تک ہوتی ہے۔