کانپور لیمبورگینی حادثہ: ملزم شیوم مشرا گرفتار، عدالت میں پیش
کانپور کے لیمبورگینی حادثے میں ملزم شیوم مشرا کو تقریباً 90 گھنٹے فرار رہنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے اسے عدالت میں پیش کیا، جبکہ گاڑی کون چلا رہا تھا اس پر تنازع برقرار ہے

کانپور کے زیر بحث لیمبورگینی حادثے میں پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے ملزم شیوم مشرا کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کمشنر رگھوبیر لال نے تصدیق کی کہ ملزم کو قانونی کارروائی کے تحت حراست میں لے کر عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گرفتاری دستیاب شواہد اور تفتیش کی بنیاد پر عمل میں آئی۔
پولیس نے شیوم مشرا کو 6 بنگلیا روڈ کے نزدیک اس کے گھر سے گرفتار کیا۔ گوالٹولی تھانے کی ٹیم نے کارروائی انجام دی۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ تقریباً 90 گھنٹے سے فرار تھا، تاہم حادثے کے بعد سے وہ شہر میں ہی موجود تھا۔
یہ حادثہ 8 اور 9 فروری 2026 کی درمیانی شب وی آئی پی روڈ، گوالٹولی علاقے میں پیش آیا تھا۔ تیز رفتار لیمبورگینی کار بے قابو ہو کر پہلے ایک ای رکشا سے ٹکرائی، پھر ایک موٹر سائیکل سوار اور ایک راہگیر کو اپنی زد میں لے لیا۔ بعد ازاں گاڑی سڑک کنارے کھمبے سے جا ٹکرائی۔ حادثے میں کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے تھے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی زیر بحث آیا کیونکہ حادثے میں شامل مہنگی کار شہر کے معروف کاروباری گھرانے بنشی دھر تمباکو گروپ سے جڑی بتائی جاتی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ گاڑی شیوم مشرا چلا رہا تھا، جو گروپ سے وابستہ کمپنی کا ڈائریکٹر ہے۔ تاہم مدعا علیہ کی جانب سے کہا گیا کہ گاڑی موہن لال نامی ڈرائیور چلا رہا تھا۔
حادثے کے بعد منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں کچھ باؤنسر گاڑی کے اطراف دکھائی دیے، جن میں سے ایک نمبر پلیٹ ہٹانے کی کوشش کرتا نظر آیا۔ اس پر شناخت چھپانے کی کوشش جیسے سوالات بھی اٹھے۔ ایک ویڈیو میں ڈرائیونگ سیٹ پر شیوم مشرا کو دیکھا گیا، جس کے بعد پولیس نے اپنا موقف واضح کیا۔
ابتدائی مرحلے میں لاپرواہی کے الزامات پر گوالٹولی تھانے کے انچارج کو لائن حاضر کیا گیا تھا اور جانچ اعلیٰ افسران کی نگرانی میں شروع کی گئی۔ اب گرفتاری کے بعد پولیس حادثے کی رفتار، حالات اور بعد کی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی پوچھ گچھ کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔