کملیش تیواری قتل معاملہ: اب بریلی سے ’مولانا‘ کیفی علی رضوی گرفتار

کملیش تیواری کی گذشتہ جمعہ کو راجدھانی لکھنؤ میں ہوئے قتل کے معاملے میں اے ٹی ایس نے بریلی سے منگل کو ملزموں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں مزید ایک مولانا کو اپنی حراست میں لیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: ہندو سماج پارٹی کے صدر کملیش تیواری کی گذشتہ جمعہ کو راجدھانی لکھنؤ میں ہوئے قتل کے معاملے میں اے ٹی ایس نے بریلی سے منگل کو ملزموں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں مزید ایک مولانا کو اپنی حراست میں لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لکھنؤ سے گئی ایس ٹی ایف نےکملیش تیواری کی قتل کے ملزموں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں بریلی سے مولانا کیفی علی رضوی کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔ ٹیم آج علی الصبح انہیں لکھنؤ لے کر آئی۔ الزام ہے کہ جمعہ کی رات بریلی آئے قتل کے ملزمین مولانا کے گھر کچھ دیر تک ٹھہرے تھے۔

پولس کے مطابق لکھنؤ میں کملیش تیواری کے قتل کے بعد ملزموں کی لوکیشن لکھنؤ کے بعد شاہجہاں پور، بریلی اور مرادآباد کے بعد انبالہ ہونے کی اطلاع ہے اور پولس کی ٹیمیں ان تمام مقامات پر کا لگاتار دورہ کر رہی ہیں۔ الزام ہے کہ کملیش کا قتل کرنے کے بعد دونوں ملزم مولانا کیفی علی رضوی سے ملنے بریلی گئے تھے۔

قبل ازیں، گزشتہ شام پولس نے شیخ اشفاق حسین اور پٹھان معین الدین احمد عرف فرید کی تصاوین جاری کیں، پولس نے ان دونوں کو اہم ملزمان قرار دیا ہے۔ اتر پردیش پوسل کے ڈی جی پی او پی سنگھ نے کہا کہ قتل کے دونوں ملزمان اشفاق اور معین الدین پٹھان کی کوئی بھی اطلاع دینے والوں کو ڈھائی-ڈھائی لاکھ روپے کے انعام سے نوازا جائے گا۔

پولس نے یہاں تک خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دونوں ملزمان پاکستان کی سرحد بھی عبور کر سکتے ہیں۔ پولس کے مطابق دو دن قبل کی اہم ملزمان کی لوکیشن ہریانہ کے انبالہ کی ملی ہے جوکہ اٹاری بارڈر سے محض 285 کلومیٹر دور واقع ہے۔ پولس نے پہلے کہا کہ دونوں ملزمان سات آٹھ گھنٹے میں اپنے موبائل فون کو آن کر رہے ہیں اور بعد میں اسے آف کر دیتے ہیں اور بعد میں کہا کہ کال ٹریس ہونے کے خوف سے دونوں ملزمان نے اپنے فون مستقل طور پر بند کر دئے ہیں اور اب وہ بہانا بنا کر راہگیروں سے فون مانگ کر بات کر رہے ہیں۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 22 Oct 2019, 3:17 PM