شیو راج حکومت کورونا کے تئیں غیر سنجیدہ، مشکل وقت میں وزرا ریاست سے باہر: کمل ناتھ

کمل ناتھ نے کہا کہ وزیر صحت اور وزیر داخلہ ریاست سے باہر ہیں، میں نے 12 مارچ کو احتیاطی طور پر کالج، مال وغیرہ بند کر دیئے تھے لیکن 16 مارچ کو میرے استعفے کے بعد بھی مرکزی حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش میں بھوپال اور اندور سمیت متعدد مقامات سے بڑی تعداد میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ریاست میں ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن موجودہ بی جے پی حکومت اس کے تئیں سنجیدہ نظر نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے شیو راج حکومت پر لاپروائی برتنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے کہا، ’وزیر صحت اور وزیر داخلہ ریاست سے باہر ہیں، میں نے 12 مارچ کو احتیاطی طور پر کالج، مال وغیرہ بند کرا دیئے تھے لیکن 16 مارچ کو میرے استعفے کے بعد بھی مرکزی حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔‘‘ کمل ناتھ نے کہا کہ صرف شہری علاقوں میں ٹسٹنگ ہو رہی ہے، دیہی علاقوں میں نہیں، صوبہ میں 10 لاکھ میں سے صرف 20-25 افراد کا ہی طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔‘‘

کمل ناتھ نے کہا کہ دوسری ریاستوں میں کام کرنے والے کافی لوگ واپس مدھیہ پردیش آ گئے ہیں۔ یہ اپنے گاؤں میں ہیں۔ ان کی کیا ٹیسٹنگ ہو رہی ہے؟ اس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ٹیسٹنگ کِٹ بھی ان کے پاس موجود نہیں ہے۔ صرف شہری علاقوں کے مخصوص لوگوں کی ہی ٹیسٹنگ ہو رہی ہے۔

ریاست کی حالت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا ہے کہ اگر حالات کو بروقت بند کردیا جاتا تو یہ صورتحال نہ ہوتی۔ کمل ناتھ نے کہا کہ 8 مارچ سے تمام ایم ایل اے ریاست سے باہر تھے، لیکن میں نے 12 مارچ کو اسکول کالج سب بند کرا دیئے۔ اس عرصے کے دوران مرکز کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور ایسا اس لئے کیونکہ وہ ریاستی حکومت کو گرانے کے منتظر تھے۔ تاہم، جب کانگریس حکومت نے اسمبلی کی کارروائی کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تو تمام جماعتوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اس کے بعد جوںہی شیو راج سنگھ کی حکومت وجود میں آئی اس کے ایک دن بعد ہی لاک ڈاؤن نافذ ہو گیا۔

کمل ناتھ نے کہا کہ 12 فروری کو راہل گاندھی نے متنبہ کیا تھا کہ کورونا بحران آنے والا ہے، لیکن مرکزی حکومت مدھیہ پردیش کی حکومت کو گرانے میں مصروف رہی۔ ہم نے قدم اٹھانا شروع کیا اور اپنی طرف سے ایک قسم کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا لیکن مرکزی حکومت انتظار کر رہی تھی کہ کب نیا وزیر اعلیٰ حلف اٹھائے گا۔

کمل ناتھ نے حیرت کا اظہار کیا کہ مدھیہ پردیش میں ابھی تک کابینہ موجود نہیں ہے، ان نازک حالت میں کابینہ کا نہ ہونا عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ بی جے پی نے جس طرح حکومت بنائی ہے، انہیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ 24 ضمنی انتخابات میں سے 22 ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا گیا تھا۔ اب مقامی سطح پر بی جے پی کارکنان ان رہنماؤں کو تجاوزات کہیں گے اور ان کا مستقبل ختم ہو گیا ہے۔ کمل ناتھ نے کہا کہ ان لوگوں نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے، لیکن عوام احمق نہیں ہیں۔