جسٹس سنجے یادو الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر، نوٹیفکیشن جاری

سپریم کورٹ کالجیم نے جسٹس سنجے یادو کو الہ آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی تھی، جسٹس یادو اب تک الہ آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر کام کر رہے تھے

جسٹس سنجے یادو / سوشل میڈیا
جسٹس سنجے یادو / سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سنجے یادو کو مستقل طور پر چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔ وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، صدر رام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 217 کی شق (i) کے تحت حاصل کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جسٹس سنجے یادو کو الہ آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس گووند مٹھور 13 اپریل کو ریٹائر ہونے کے بعد جسٹس یادو کو 14 اپریل کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کالجیم نے گذشتہ ماہ 20 مئی کو جسٹس یادو کو الہ آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی تھی۔

جسٹس سنجے یادو کی پیدائش 26 جون 1961 کو ہوئی تھی اور 25 اگست 1986 کو ایڈوکیٹ کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے جبل پور ہائی کورٹ میں سول، ریوینیو اور آئینی معاملوں کی وکالت کی۔ سنجے یادو مدھیہ پردیش کے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ دو مارچ 2007 کو وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور جنوری 2010 میں مستقل جج بنائے گئے۔

جسٹس سنجے یادو دو مرتبہ مدھیہ پردیش کے کارگزار چیف جسٹس بھی رہے۔ آٹھ جنوری 2021 کو مدھیپ پردیش ہائی کورٹ سے ان کا ٹرانسفر الہ آباد ہوئی کورٹ میں کیا گیا۔ وہ یہاں پر 14 اپریل سے کارگزار چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال رہے تھے۔ جمعرات کو ان کی تقرری کے تعلق سے ایڈیشنل سکریٹری قانون اور انصاف راجندر کشیپ نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔