قومی

’کٹھوعہ معاملہ پر بہترین فیصلہ سنایا گیا، کرائم برانچ اور جج مبارک باد کے مستحق‘

فاروق عبد اللہ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے عدالتی فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے ایک بہترین فیصلہ سنایا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے عدالتی فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے ایک بہترین فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرائم برانچ کے تحقیقاتی افسران مبارکبادی کے مستحق ہیں کیونکہ بقول ان کے انہوں نے دباؤ کے باوجود تحقیقات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

فاروق عبداللہ نے کہا، ’’میں کرائم برانچ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس پر دباؤ آیا لیکن یہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا۔ کرائم برانچ کے افسران نے پوری ایمانداری سے کیس کی تحقیقات کی اور اس کو عدالت تک پہنچایا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں جج صاحب کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے سب کو سنا اور اس کے بعد ایک بہترین فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کی چوطرفہ سراہنا کی گئی ہے۔‘‘

فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ ہمیشہ آزاد رہے گی اور صحیح فیصلے سناتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں ڈر تھا کہ دلی میں بننے والی نئی حکومت کہیں اداروں کو زک پہنچانا شروع نہ کر دے۔ ایک ادارہ جو بچ گیا ہے وہ عدلیہ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ عدلیہ اسی طرح آزاد رہے گی اور صحیح فیصلے سناتی رہے گی۔‘‘

بتادیں کہ پیر کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز و سابق سرکاری افسر سانجی رام، پرویش کمار اور ایس پی او دیپک کھجوریہ کو تاحیات قید کی سزا جبکہ دیگر تین بشمول ایس پی او سریندر کمار، سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ جج موصوف نے سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی بناء پر بری کردیا۔

دریں اثنا نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس، سینئر لیڈر و سابق وزیر سکینہ ایتو، صدر صوبہ خواتین ونگ جموں ستونت کور، صوبائی صدر خواتین ونگ کشمیر انجینئر صبیہ قادری اور صوبائی ترجمان سارا حیات شاہ نے رسانہ عصمت دری و قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پولیس اور عدلیہ کے رول کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی مقدم ہے اور ہمیشہ رہنی چاہئے۔

ایک مشترکہ بیان میں پارٹی کی خواتین لیڈران نے کہا کہ رسانہ جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اور بروقت اقدامات کی ضرورت ہے اور ایسے واقعات میں ملوث درندوں کو عبرتناک سزا دی جانی چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح سے دلی کے نربھیا کیس میں مجرموں کو پھانسی کی سزا دی گئی اُسی طرح کٹھوعہ کی معصوم بچی کے مجرموں کو بھی موت کی سزا دی جانی چاہئے۔

پارٹی لیڈران کا کہنا تھا کہ سماج میں ایسے افراد کا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہئے جو ایسے وحشیانہ، دلدوز اور شرمناک واقعات کے ملوثین کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں کے عوام حالیہ انتخابات میں اس کیس میں ملوث افراد کے حق میں ریلیوں کی قیادت کرنے والے سیاست دانوں کو مسترد کردیا۔

Published: 11 Jun 2019, 11:10 PM