LIVE چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف چار ججوں کی بغاوت، ہلچل جاری

یہ اندرونی معاملہ ہے: حکومت

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت اس معاملہ میں کوئی بیان نہیں دے گی کیوں کہ یہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے کیس کی سماعت شروع کر دی!

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ججوں کے الزامات عائد کرنے کے بعد چیف جسٹس دیپک مشرا نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے بات کی ہے۔

پریس کانفرنس تاریخی ہے: اندرا جے سنگھ

سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا ’’یہ ایک تاریخی اور قابل تحسین پریس کانفرنس تھی۔ میرا خیال ہے کہ ہم ہندوستان کے باشندگان کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ عدلیہ کے اندر کیا چل رہا ہے۔‘‘

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس پ بی ساونت نے کہا ’’ججوں کو ایسا قدم اٹھانا پڑا جس کی مثال نہیں ملتی، اس سے ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ میں تنازعات جاری ہیں چاہیں اندورنی اور چاہے چیف جسٹس کے ساتھ۔

ججوں کی پریس کانفرنس کے بعد ہلچل

سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے چیف جسٹس پر الزامات عائد کرنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر قانون روی شنکر پرساد سے بات کی ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا میڈیا سے خطاب کر سکتے ہیں۔

سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا ’’نہایت ہی دردناک اور تکلیف کی بات ہے اور اس بات کو لے کر غصہ بھی آ رہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اندر ججوں کو اتنے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ انہیں میڈیا کو خطاب کرنا پڑا۔‘‘

سینئر وکیل اوجول نکم نے کہا ’’یہ عدلیہ کے لئے سیاہ دن ہے۔ اس کے بعد ہر شخص عدالتی فیصلوں کو شک کی نگاہ سے دیکھے گا۔‘‘

چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں کی پریس کانفرنس کے بعد سبرمنیم سوامی نے کہا کہ معاملہ میں وزیر اعظم کو مداخلت کرنی چاہئے۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا یہ بےحد سنجیدہ معاملہ ہے۔ چیف جسٹس جس طرح سے اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہے ہیں کسی نہ کسی کو تو اسے اجاگر کرنا ہی تھا۔

جمہوریت خطرے میں ہے: جسٹس چیلیمیشور

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں اس کو سیاہ دن نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے۔ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے جس میں جسٹس چیلیمیشور، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کورین جوزف شامل ہیں وہ آج میڈیا کے سامنے آئے اور انہوں نے سپریم کورٹ کی کارکردگی پر ہی سوال کھڑے کر دئے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس چیلمیشور نے کہا کہ’’سپریم کورٹ کی انتظامیہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہی ہے اور اگر ایسے ہی چلتا رہا تو جمہوری صورت حال خراب ہو جائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس مدے پر انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے بات کی تھی لیکن انہوں نے بات نہیں سنی۔ جسٹس چیلیمیشور نے کہا کہ ’’ہم نے اپنی روح بیچ دی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ جسٹس چیلیمشور سپریم کورٹ میں نمبر دو کے جج ہیں۔

جسٹس چیلمیشور نےکہا کہ اگر انہوں نے ملک کے سامنے یہ باتیں نہیں رکھیں اور وہ نہیں بولے تو جمہوریت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا ’’ہم سبھی 4 ججوں نے 4 مہینے قبل چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھ کر سپریم کوٹ کی انتظامیہ سے وابستہ مدے اٹھائے تھے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ آج تک ان مدوں سے متعلق کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

سب سے زیادہ مقبول