جے این یو میں تشدد: یوپی میں ہائی الرٹ، اے ایم یو میں اضافی سیکورٹی

جے این یو میں نقاب پوش گینگ کی جانب سے طلبہ و اساتذہ پر لاٹھی ڈنڈوں سے کئے گئے حملے کے بعد یو پی میں انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کیا ہے، نیز اے ایم یو میں احتیاط کے طور پر اضافی سیکورٹی لگائی گئی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: جواہر لال یونیورسٹی میں اتوار کی رات نقاب پوش گینگ کی جانب سے طلبہ و اساتذہ پر لاٹھی ڈنڈوں سے کئے گئے حملے کے بعد اترپردیش میں انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ نیز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں احتیاط کے طور پر اضافی سیکورٹی لگائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکہ کے میزائل حملے میں ہلاکت، پاکستان میں ننکانا صاحب گرودوارہ پر حملے کے خلاف اترپردیش میں کئی مقامات پر احتجاج ہو رہے ہیں تو وہیں شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد اور اس میں معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد عام شہریوں میں پھیلی بے چینی و خفگی ابھی تک پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی ہے۔

سینئر پولیس افسران نے اضلاع کے پولیس سربراہوں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کرنے کے ساتھ تعلیمی اداروں کے کیمپسز میں طلبہ کی جانب سے ہونے والی ہر سرگرمی پرگہری نظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔قابل ذکرہے کہ اترپردیش میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علاوہ دیگر تعلیمی ادارے پیر سے کھل رہے تھے۔

ریاست میں متعدد تعلیمی ادارے ہیں جہاں پر دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کی یک طرفہ کاروائی ،لاٹھی چارج،آنسو گیس کے گولے اور فائرنگ کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا تھا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بطور خاص جامعہ کے طلبہ کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کئے تھے جس کے پاداش میں پولیس نے مبینہ طو رپر کیمپس میں گھس کر طلبہ کے خلاف کاروائی کی۔ الہ آباد یونیورسٹی نے بھی طلبہ کے اشتعال و خفگی سے دوچار ہے۔ جہاں یونیورسٹی وائس چانسلر نے چار دن قبل استعفی دے ہے تو وہیں پراکٹر اور رابطہ عامہ افسرنے بھی اپنے اپنے عہدے سے استعفی دیے دیا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے پیر کو انکشاف کیا ’’ریاست میں طبقاتی سیاست نے خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے۔ اس کی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہیں۔تقریبا تمام اضلاع میں ہم مختلف مسائل پر عوامی بے چینی سے نبردآزما ہیں۔سی اے اے کے ضمنی میں عوامی خفگی و اشتعال ابھی بھی قائم ہے۔شیعہ اور سکھ ایرانی میجر جنرل کی ہلاکت اور پاکستان میں ننکانہ صاحب گرودوارے پر حملے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔تعلیمی اداروں میں طلبہ بھی سی اے اے مخالف میں ہونے والے احتجاج کے خلاف کاروائی سے نالاں ہیں۔بلاشبہ اس وقت حالات غیر مستحکم ہیں‘‘۔

یوپی ڈی جی پی او پی سنگھ نے کہا’’ ریاست میں بے ہنگم حالات کے پیش نظر ہم نے تمام اضلاع کے پولیس سربراہان کو ہائی الرٹ پر رہنے کو کہا ہے اور خفیہ ذرائع سے موصول ہونے والے انٹ پٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔ ملحوظ رہے کہ اتوار کی رات متعدد نقاب پوش غندہ نما افراد نے بشمول مرد وخواتین نے جے این یو کیمپس میں گھس کر طلبہ و اساتذہ کو لاٹھی ڈنڈوں سے بری طرح سے زدوکوب کیا تھا جن میں متعدد طلبہ و ٹیچر زخمی ہوگئے تھے۔تاہم زخمیوں کے حقیقی تعداد کا ابھی تک اندازہ نہیں ہوسکا۔ اندازے کے مطابق تقریبا 30 طلباوطالبات اور ٹیچر زخمی ہوئے تھے جنہیں دہلی کے ایمس میں علاج کے لئے داخل کرایا گیاتھا۔

جے این یو طلبہ پر نقاب پوش حملہ آوروں کی بربرتہ کے بعد علی گڑھ میں ’اتوار کی رات ہی طلبہ نے جے این یو کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تشدد کے خلاف احتجاج کے لئے پرامن کینڈل مارچ نکالا اور نقاب پوش حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا‘۔مارچ یونیورسٹی احاطے میں نکالا گیا جو باب سید پر آکے ختم ہوا۔

اے ایم یو کے سابق یونین لیڈر نائب صدر ہمزہ سفیان نے کے مطابق’’ہمارا احتجاج پرامن تھا۔اے بی وی پی کے افراد نے جے این یو کے نہتھے طلبہ پر حملہ کیا۔ان کے خلاف ہر حال میں کاروائی کی جانی چاہئے۔حکومت احتجاج کرنےوالوں کے خلاف ایف آئی آر درج کررہی ہے۔تو اب لازم ہے کہ وہ یونیورسٹی کیمپس میں گھس کر آتنک مچانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے‘‘۔ اے ایم یو ٹیچر ایسوسی ایشن(اے ایم یو ٹی اے)نے بھی اس ضمن میں اپنا بیان جاری کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا شرد اروند بوبڑے سے اتوار کی رات جے این یو میں پیش آئے معاملے کی از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

علی گڑھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آکاش کہاری نے کہا کہ احتیاطی قدم کے طور پر اے ایم یو کیمپس کے تمام حساس مقامات پر پولیس کو تعینات کیا گیا۔وہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حالات کے جائزے کے بعد سرمائی تعطیل میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے لیکن ابھی اس بات کااعلان نہیں کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی دوبارہ کب کھلے گی۔ پہلے کے اعلان کے مطابق آج سے اے ایم یو کو کھلنا تھا۔

next