جے این یو طلبا یونین کا احتجاجی مظاہرہ، بابری مسجد کو پھر تعمیر کرنے کا مطالبہ

جے این یو ایس یو کی جانب سے 6 دسمبر کی شب احتجاجی مارچ نکالا گیا، اس دوران نعرے بازی کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ بابری مسجد کو غلط طریقہ سے منہدم کیا گیا تھا، لہذا اسے پھر تعمیر کیا جانا چاہئے

چھ دسمبر پر جے این یو ایس یو کا احتجاج / ٹوئٹر
چھ دسمبر پر جے این یو ایس یو کا احتجاج / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبا یونین نے 6 دسمبر کی شب احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کو از سر نو تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو بھی ان کی برسی کے موقع پر یاد کیا گیا اور ہندوا قوتوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

جے این ایس یو کی اپیل پر ہوئے اس مظاہرہ کے لئے رات 8.30 بجے گنگا ڈھابا پر بڑی تعداد میں لفٹ ونگ کے طلبا جمع ہوئے۔ یہاں سے طلبا کا ہجوم مارچ نکالتے ہوئے چندر بھاگا ہاسٹل تک پہنچا۔

طلبا نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو منہدم کئے جانے کے خلاف ایک احتجاجی مارچ نکالا۔ اس دوران طلبا یونین کے نائب صدر ساکیت مون اور یہاں موجود لیفٹ تنظیموں کے کارکنان نے بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔ طلبا نے یہاں ’’نہیں سہیں گے ہاشم پورہ، نہیں سہیں گے دادری، پھر بناؤ پھر بناؤ پھر بناؤ دادری‘‘ جیسے نعرے لگائے۔


جے این یو ایس یو کے نائب صدر ساکیت مون نے کہا کہ ہاشم پورہ اور دادری وہ مقامات ہیں جہاں مذہبی منافرت پھیلا کر فساد پھیلایا گیا اور اقلیتوں پر ظلم کیا گیا۔ اسی طرح ایودھیا میں بابری مسجد کے ساتھ بھی ناانصافی کی گئی۔ حکومت کو چاہئے کہ بابری مسجد کو از سر نو تعمیر کرتے ہوئے اس ناانصافی کو ختم کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔