جے این یو ایس یو انتخاب: اے بی وی پی کی توڑ پھوڑ، ووٹوں کی گنتی ملتوی

اے بی وی پی نے بوتھ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی: این ایس یو آئی

جے این یو ایس یو انتخابات کی ووٹ شماری کے دوران توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کے بعد این ایس یو آئی نے ایک بیان جاری کر اے بی وی کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ این ایس یو آئی نے بیان میں کہا، ’’اے بی وی پی کے لوگوں نے جب دیکھا کہ این ایس یو آئی کی جیت ہو رہی ہے تو انہوں نے بوتھ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ جس اسکول میں گنتی ہو رہی تھی اس کا مین گیٹ توڑ کر اے بی وی پی کے لوگ اندر گھس آئے اور توڑ پھوڑ کے ساتھ چناؤ افسر سے بھی مار پیٹ کی۔

این ایس یو آئی کے نائب صدر مکیش کمار نے کہا، ’’جے این یو کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جب اس طرح کی حرکت کی گئی۔ طلبا سیاست کیسی ہو جے این یو اس کے لئے جانا جاتا ہے لیکن بی جے پی کے آنے کے بعد سے یہ سب باتیں قدیمی دور کی ہو چکی ہیں۔‘‘

جے این یو کیمپس میں میڈیا کے داخلہ پر پابندی

جے این یو طلبا یونین انتخابات کی ووٹ شماری کے دوران ہوئے وبال کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں میڈیا کے داخلہ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ خبروں کے مطابق انتخابی افسر کے کہنے پر ایسا کیا گیا ہے۔

جے این یو طلبا یونین (جے این یو ایس یو) انتخابات کے دوران ہنگامہ کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ الزام ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران بی جے پی کی طلبا تنظیم اے بی وی پی نے ہنگامہ اور توڑ پھوڑ کی جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ووٹوں کی گنتی فی الحال ملتوی کر دی۔

چناؤ کمیٹی کا الزام ہے کہ ایک صدر اور جوائنٹ سکریٹری عہدہ کے امیدوار نے چناؤ کمیٹی کے ساتھ مار پیٹی کی۔ اتنا ہی نہیں خاتون ارکان کے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی ہے۔

بائیں بازو کی تنظیموں کا الزام ہے کہ دیر رات گئے اے بی وی کے امیدواروں اور کارکنان نے ہنگامہ آرائی کی اور مار پیٹ کو انجام دیا۔ جبکہ این ایس یو آئی کا کہنا ہے کہ اپنی ہار دیکھ کر اے بی وی پی بوکھلا گئی اس لئے یہ سب کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز جے این یو طلبا یونین کے انتخابات ہوئے جس میں ریکارڈ ووٹنگ درج کی گئی، 68 فیصد طلبا نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔

جے این یو طلبا یونین انتخابات میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا: شہلا راشد

جے این یو طلبا یونین کی سابق نائب صدر شہلا راشد نے ووٹوں کی گنت کے مرکز پر توڑ پھوڑ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’اس سے پہلے آج تک جے این یو میں ایسا نہیں دیکھا گیا۔ دیر رات اے بی وی پی سے وابستہ افراد نے شیشے توڑ دئے اور زبردستی کاؤنٹنگ مرکز میں گھسنے کی کوشش کی۔ چناؤ کمیٹی کے ارکان پر حملہ بولا اور بیلٹ باکس چھیننے کی کوشش کی۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول