کشمیری طلبہ اور تاجروں کے تحفظ کے لیے سخت قانون بنایا جائے، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا مطالبہ
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے قومی انسانی حقوق کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری طلبہ اور تاجروں کے خلاف ہراسانی کی جانچ ہو اور ان کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں

نئی دہلی: جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری طلبہ اور کشمیری شال فروخت کرنے والے تاجروں کے خلاف ہراسانی، تشدد اور امتیازی سلوک کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے قومی انسانی حقوق کمیشن کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے اور متاثرین کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں، خصوصاً ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، دہلی اور مہاراشٹر میں کشمیری تاجروں اور طلبہ کو مسلسل دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران درجن سے زائد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جو کسی منظم رویے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کشمیری شال فروش کئی دہائیوں سے پرامن طریقے سے اپنا روزگار چلا رہے تھے، مگر اب انہیں روکنا، ان کے سامان کو نقصان پہنچانا اور بعض مقامات پر لوٹ مار جیسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
مکتوب میں ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھویہامی نے لکھا ہے کہ کئی معاملات میں کشمیری تاجروں کو مخصوص نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا اور انکار کی صورت میں انہیں ہراساں کیا گیا۔ بعض واقعات میں موبائل فون توڑ دیے گئے جب متاثرین نے ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کسی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے زبردستی نعرے لگانے پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ حب الوطنی جبر سے نہیں بلکہ آزادی اور مساوات سے جنم لیتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے خط میں مختلف اضلاع اور شہروں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک کشمیری طالبہ کو دہلی میں صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر کرائے کا مکان نہیں دیا گیا اور اس کے سامنے غیر مناسب شرط رکھی گئی، جبکہ ممبئی میں ایک طالب علم کو مبینہ طور پر پاکستانی کہہ کر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تنظیم کے مطابق سال دو ہزار پچیس کے دوران ہماچل پردیش میں ہی سترہ سے زیادہ ایسے واقعات رپورٹ ہوئے، مگر ریاستی سطح پر کوئی مضبوط کارروائی نظر نہیں آئی۔
ایسوسی ایشن نے زور دیا ہے کہ کشمیری ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں اور انہیں بھی وہی حقوق اور تحفظ ملنا چاہیے جو دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے حالات نہ صرف متاثرین کی روزی روٹی اور تعلیم کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ اسی لیے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ ریاستوں سے تفصیلی رپورٹس طلب کی جائیں، ذمہ داری طے کی جائے اور کشمیری طلبہ و تاجروں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔