کشمیر مسئلہ کے ذکر سے بچے جن پنگ، مودی سے عمران خاں کے دورے کا تذکرہ کیا

خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خارجہ پالیسی کو خود مختار بنانے اور دو طرفہ تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے خیالات اور نقطہ نظر سے آزاد رکھنے کی ضرورت بھی قبول کی

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

مهابلی پورم: وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے دو روزہ غیر رسمی میٹنگ میں بھلے ہی دہشت گردی اور مذہبی کٹرپن سے دونوں ممالک کے سماج کو محفوظ رکھنے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا لیکن کشمیر مسئلے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے یہاں پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جن پنگ نے اگرچہ پی ایم مودی سے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ چین دورے کے سلسلے میں بات چیت ضرور کی۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت میں جموں و کشمیر کی صورتحال کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ جن پنگ نے اگرچہ عمران خان کی بیجنگ دورہ کا ذکر کیا جسے وزیر اعظم نے’سن لیا‘۔

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ بات چیت میں جموں و کشمیر کو لے کر کوئی ذکر نہیں ہوا۔ اس بارے میں ہندوستان کا موقف چین کو پہلے سے ہی پتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خارجہ پالیسی کو خود مختار بنانے اور دو طرفہ تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے خیالات اور نقطہ نظر سے آزاد رکھنے کی ضرورت بھی قبول کی۔

بین الاقوامی امور میں دونوں رہنماؤں نے کثیر جہتی فورم پر تعاون بڑھانے کی ضرورت محسوس کی اور عالمی تجارتی تنظیم میں اصلاحات، موسمیاتی تبدیلی کی کوششوں اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کے بارے میں بات ہوئی. دونوں رہنماؤں کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر بھی بحث ہوئی۔