جھارکھنڈ: مسلمانوں کو 10 فیصد ریزرویشن دیا جائے، کانگریس رکن اسمبلی عرفان انصاری کا مطالبہ

جھارکھنڈ کانگریس کے قائم مقام صدر اور جامتاڑا سے رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری نے جھارکھنڈ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کو 10 فیصد ریزرویشن فراہم کیا جائے

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

رانچی: جھارکھنڈ کانگریس کے قائم مقام صدر اور جامتاڑا سے رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری نے جھارکھنڈ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کو 10 فیصد ریزرویشن فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہیمنت سورین حکومت کو مسلمانوں کے مستقبل کا بھی خیال کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر انصاری نے مزید کہا کہ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو الجھا کر رکھ دیا ہے اور وہ پستی کی طرف گامزن ہیں۔

کانگریس رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ جب بھی مسلمانوں کی ترقی کی بات آئی تو سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے انہیں مدرسہ بورڈ، وقف بورڈ، حج کمیٹی اور اقلیتی کمیشن کے نام پر گمراہ کیا جبکہ مسلمانوں کی تعلیم اور روزگار کا مسئلہ سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کر کے انہوں نے اپنی بات رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے سنا اور اس تعلق سے تجویز دینے کو کہا ہے۔

ڈاکٹر عرفان انصاری نے قبائلیوں کے لئے علاحدہ سرنا ضابطہ مذہب کی قرارداد جھارکھنڈ اسمبلی سے منظور کرانے کے ہیمنت سورین حکومت کے اقدام کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح مسلمانوں کو بھی مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی جائے تاکہ انہیں روزگار کے یکساں مواقع فراہم ہو سکیں اور مسلم بچوں کی زندگی کے ہر شعبہ میں شراکت داری ہو۔

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ 10 فیصد ریزرویشن یقینی بنائے جانے کے بعد یہ مسلمانوں کے بچے آگے بڑھ پائیں گے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو مسلم طبقہ مزید پستی میں چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن ملے گا تو ہر شعبہ میں مسلم طبقہ کے بچوں کو ملازمت ملے گی، ان کی ترقی ہوگی اور معاشرہ بھی مزید مستحکم ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔