جھارکھنڈ موب لنچنگ: مہلوک تبریز کی بیوی نے دی خودکشی کی دھمکی

تبریز انصاری کی بیوی شائستہ پروین نے کہا کہ اس کے شوہر کی موت گاؤں والوں کی پٹائی اور اس کے بعد پولس و ڈاکٹروں کی لاپروائی کی وجہ سے ہوئی اور اسے انصاف چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جھارکھنڈ موب لنچنگ معاملے میں شکار ہوئے مہلوک تبریز انصاری کی بیوی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملزمین پر قتل کا مقدمہ نہیں درج کیا گیا تو وہ اپنی جان دے دیں گی۔ پیر کے روز مہلوک تبریز کی 24 سالہ بیوی شائستہ پروین نے ا ہل خانہ کے ساتھ ڈی سی اور ایس پی سے ملاقات کر معاملے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت کیس چلانے کا مطالبہ کیا۔ شائستہ نے درخواست دے کر آگے کی کارروائی کے لیے پولس سے پوسٹ مارٹم، وِسرا اور ایس آئی ٹی رپورٹ کی کاپی بھی مانگی ہے۔

پیر کے روز تبریز انصاری قتل معاملہ میں اس وقت نیا موڑ آ گیا جب مہلوک کی بیوی نے کلکٹریٹ پہنچ کر ڈی سی اے. دوڈے سے ملاقات کر ملزمین کو سخت سزا دلانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران شائستہ نے انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دفعہ 302 ہٹا کر دفعہ 304 کے تحت جانچ افسر نے غلط طریقے سے عدالت میں فرد جرم پیش کی ہے۔ شائستہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزمین پر قتل کا مقدمہ نہیں درج ہوا تو وہ اپنی جان دے دیں گی۔

اس دوران شائستہ پروین نے ایک درخواست دے کر کہا کہ تبریز انصاری کی موت گاؤں والوں کی پٹائی اور پولس و ڈاکٹروں کی لاپروائی کے سبب ہوئی۔ ایسے میں آگے کی کارروائی کے لیے فیملی کو پوسٹ مارٹم، وِسرا اور ایس آئی ٹی رپورٹ کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وہ پہلے بھی درخواست دے کر رپورٹ کا مطالبہ کر چکی ہیں، لیکن وہ اب تک نہیں دی گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ 17 جون کی رات جھارکھنڈ میں جمشید پور میں تبریز انصاری اپنے رشتہ دار کے گھر سے سرائے کیلا واقع اپنے گاؤں کدم ڈیہہ جا رہا تھا۔ اسی دوران راستے میں گاؤں والوں نے چوری کے الزام میں اسے پکڑ لیا اور پول سے باندھ کر رات بھر اس کی پٹائی کرتے رہے۔ اس دوران مبینہ طور سے اس سے ’جے شری رام‘ اور ’جے ہنومان‘ کے نعرے بھی لگوائے گئے۔ رات بھر پٹائی کے بعد اگلے دن صبح اسے پولس کے حوالے کیا گیا تھا۔