لالو نے سیاسی خط لکھ کر جیل مینول کی خلاف ورزی کی :جے ڈی یو

چار دہائیوں میں ہم نے ہر سیاسی ، سماجی اور یہاں تک کہ گھریلومعاملوں میں مل ۔ بیٹھ کر ہی بات چیت کی ہے ۔ آپ جلد صحت یاب ہوں ، پھر بیٹھ کے بات کریں گے۔ آپ کہیں نہیں جارہے ہیں ، ۔ آپ کا لالوپرساد ۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بہار میں حزب اقتدار جنتادل یونائٹیڈ( جے ڈی یو ) کے سنیئر لیڈر نیرج کمار نے راشٹریہ جنتادل ( آرجے ڈی ) چھوڑ چکے ڈاکٹر رگھونش پرساد سنگھ کو منانے کی کوشش کے تحت جیل میں بند آرجے ڈی صدر لالو پرساد یادو کے خط لکھنے پر راست حملہ کیا اور کہاکہ مسٹر یادو نے سیاسی خط لکھ کر جیل مینول کی خلاف ورزی کی ہے ۔

بہار کے اطلاعات ورابطہ عامہ کے وزیر نیرج کمار نے جمعہ کو ٹوئٹ کیا کہ ” سزایافتہ لالو پرساد یادو ، جیل میں دربار لگانے سے من نہیں بھرا تو اب دوبارہ جیل مینول کی دفعہ 999 کی خلاف ورزی کی ۔ یہ دفعہ واضح کرتی ہےکہ قیدی کے ذریعہ سیاسی خط نہیں لکھاجاسکتاہے ۔ “کما رنے لالو یادو کے سیا سی خط سے متعلق جیل سپرنٹنڈنٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ اگر جیل مینول کی دفعہ 999 قیدی کو سیاسی خط لکھنے کا حق نہیں فراہم کرتاہے تو پھر جیل سپرنٹنڈنٹ نے اس کی اجازت کیسے دی ۔ انہوں نے کہاکہ یہ سنگین معاملہ ہے ۔ وہ جان لیں کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں۔

آرجے ڈی کے سنیئرلیڈر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر رگھونش پرساد سنگھ کے پارٹی چھوڑنے کی خبر کے بعد آرجے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو نے انہیں منانے کیلئے جیل سے جمعرات کو جذباتی خط لکھ کر چار دہائیوں پرانے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ” چار دہائیوں میں ہم نے ہر سیاسی ، سماجی اور یہاں تک کہ گھریلومعاملوں میں مل ۔ بیٹھ کر ہی بات چیت کی ہے ۔ آپ جلد صحت یاب ہوں ، پھر بیٹھ کے بات کریں گے۔ آپ کہیں نہیں جارہے ہیں ، سمجھ لیجئے ۔ آپ کا لالوپرساد ۔“

ا س سے قبل پھیپھڑے میں انفیکشن کی وجہ سے دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس ( ایمس ) کے آئی سی یو میں داخل ڈاکٹر رگھونش پرساد سنگھ نے جمعرات کو وہیں سے آرجے ڈی صدر لالو پرساد یادو کو خط لکھ کر پارٹی چھوڑنے کی اطلاع دی تھی ۔

انہوں نے خط میں کہاکہ ” جن نائک کر پوری ٹھاکر کے انتقال کے بعد 32 سالوں تک آپ کے پیٹھ پیچھے کھڑا رہا لیکن اب نہیں۔ پارٹی لیڈران ، کارکنان اور عوام الناس نے بڑا پیار دیا ، مجھے معاف کریں۔ “ غور طلب ہے کہ سابق رکن پارلیمنٹ راما سنگھ کو آرجے ڈی میں لائے جانے کے تذکرہ کے بعد سے ہی ڈاکٹر رگھونش پرساد سنگھ ناراض تھے ۔ مسٹر لالو پرساد یادو نے بھی انہیں منانے کی کوشش کی ، اسی درمیان مسٹر یادو کے بڑے بیٹے تیج پڑتاپ یادو نے ڈاکٹر سنگھ سے متعلق متنازعہ بیان دے دیا تھا کہ ” ایک لوٹا سمندر سے نکل جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ‘۔ ایسا سمجھا جاتاہےکہ ڈاکٹر سنگھ اس سے کافی بے عزتی محسوس کررہے تھے ۔ اخیر میں انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ لیا ۔ ڈاکٹر سنگھ فی الحال ایمس میں اپنا علاج کرارہے ہیں۔

next