جاپانی پاسپورٹ پہلے، ہندوستان 79ویں اور پاکستان 102ویں مقام پر

دنیا کے مختلف ملکوں کے پاسپورٹوں کی وقعت کا عالمی انڈیکس جاری کر دیا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کے مطابق جاپانی پاسپورٹ کی وقعت سب سے زیادہ ہے جبکہ جرمن پاسپورٹ تیسری پوزیشن پر چلا گیا ہے۔

ڈی. ڈبلیو

دنیا کے سبھی ممالک کے پاسپورٹ کے بہترین ہونے اور اُن کی عالمی وقعت و طاقت کی درجہ بندی ہینیلی نامی ادارہ کرتا ہے۔ اس ادارے نے دنیا کے مختلف ممالک کے پاسپورٹوں کی رواں برس کی درجہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس عالمی درجہ بندی کے مطابق اس وقت جاپان کا پاسپورٹ سب سے بہترین اور اعلیٰ ترین وقعت کا حامل ہے اور اس پاسپورٹ پر دنیا کے 190 ملکوں میں بغیر ویزے کے داخل ہوا جا سکتا ہے۔

ہینیلی انڈیکس کے مطابق ہندوستان کی پوزیشن میں گزشتہ برس کے مقابلہ بہتری آئی ہے، سن 2018 میں ہندوستان کا پاسپورٹ درجہ بندی میں 81ویں مقام پر تھا جبکہ اس سال یہ 79ویں مقام پر ہے۔

ہندوستان کے ہم سایہ ممالک افغانستان، پاکستان اور نیپال بالترتیب 104، 102 اور 94ویں مقام پر ہیں۔

اکستانی پاسپورٹ کی پوزیشن گزشتہ برس کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔ سن 2018 میں پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں پوزیشن 104 ویں تھی۔ اب یہ دو درجے بہتر ہوئی ہے اور یہ 102 کے مقام پر پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کے گرین پاسپورٹ کے حامل افراد دنیا کے کم از کم تینتیس ممالک میں بغیر ویزے کے داخل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان سے کم درجے کے پاسپورٹ رکھنے والے ملکوں میں صومالیہ، شام، عراق اور افغانستان ہیں۔

گزشتہ برس کا طاقتور اور بہترین پاسپورٹ سنگاپور کا پاسپورٹ قرار دیا گیا تھا کیونکہ اِس پاسپورٹ پر 189 ممالک میں داخلہ بغیر کسی پیشگی ویزے کے ممکن ہے۔ سن 2019 میں سنگاپور کے پاسپورٹ کا مقام دوسرا ہو گیا ہے اور اس پوزیشن پر وہ اکیلا نہیں بلکہ جنوبی کوریا بھی اس کے ساتھ ہے۔ اس طرح جنوبی کوریا اور سنگا پور کے پاسپورٹ رکھنے والے افراد دنیا کے 189 ملکوں میں ویزے کے بغیر داخل ہو سکتے ہیں۔

دو سال قبل جرمن پاسپورٹ کو بہترین پاسپورٹ کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ پہلے اس پوزیشن پر سنگاپور نے قبضہ کر کے جرمنی کو دوسری پوزیشن پر دھکیل دیا تھا۔ اب سن 2019 میں جرمن پاسپورٹ کے لیے یہ پوزیشن مزید کم ہو کر رہ گئی ہے۔ رواں برس کی عالمی درجہ بندی کے مطابق جرمن پاسپورٹ تیسرا بہترین اور طاقتور پاسپورٹ ہے۔ یہ 188 ممالک کے لیے کارآمد ہے اور پیشگی ویزے کے بغیر داخل ہونا ممکن ہے۔ اس پوہزیشن پر جرمنی کے ساتھ فرانس بھی شامل ہے۔

Published: 9 Jan 2019, 5:39 PM