مودی کے خلاف آواز اُٹھانے والے برخاست آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو عمر قید

حراست میں ہوئی ایک موت سے متعلق تین دہائی پرانے معاملے میں سنجیو بھٹ کو جام نگر عدالت نے قصوروار ٹھہرایا اور عمر قید کی سزا سنائی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

جام نگر: گجرات کے جام نگر کی ایک عدالت نے برخاست آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو تقریبا ًتین دہائی پرانے ایک معاملہ میں آج عمر قید کی سزا سنائی۔ معاملہ حراست میں موت (كسٹوڈيل ڈیتھ) سے منسلک تھا جس پر عدالت نے آج فیصلہ سنایا۔

استغاثہ کے مطابق سنجیو بھٹ نے جام نگر کے اس وقت کے ایڈیشنل پولس سپرنٹنڈنٹ کے طور پر شہر جام جودھپور میں 1990 میں ہونے والے فسادات کے دوران 100 سے زائد افراد کو حراست میں لینے کے احکامات دئیے تھے۔ حراست سے آزاد کئے جانے کے بعد ان میں سے ایک پربھوداس ویشانی کی اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ ان کی حراست کے دوران پٹائی کی گئی تھی۔ متوفی کے بھائی امرت ویشانی نے اس معاملہ میں سنجیو بھٹ سمیت آٹھ پولس اہلکاروں کو ملزمان بناتے ہوئے معاملہ درج کرایا تھا۔ عدالت نے سنجیو بھٹ کو مجرم ٹھہراتے ہوئے آج عمر قید کی سزا سنائی۔ ایک اور ملزم اور اس وقت کے کانسٹیبل پروین جھالا کو بھی عمر قید کی سزا دی گئی۔

واضح رہے کہ اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی پر گجرات کے 2002 کے فسادات کے دوران فسادیوں کے خلاف پولس پر نرم رویہ اپنانے کا الزام لگانے والے سنجیو بھٹ کو طویل عرصہ تک ڈیوٹی سے غائب رہنے کی وجہ سے 2011 میں معطل اور اگست 2015 میں برخاست کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس معاملہ میں 12 جون کو سپریم کورٹ میں عرضی دے کر 10 اضافی گواہوں کے بیان لینے کی اپیل کی تھی لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے اسے ایسے وقت میں معاملے کو طول دینے کی کوشش قرار دیا تھا جب نچلی عدالت فیصلہ سنانے والی تھی۔

Published: 20 Jun 2019, 1:10 PM