جموں و کشمیر معاملہ پر سپریم کورٹ نے مودی حکومت سے پوچھے سوال

جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والی دفعہ 370 ہٹانے کے بعد وادی میں کشیدگی ہے۔ حکومت نے ریاست میں تمام طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں جس سے متعلق داخل عرضی پر آج سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والی دفعہ 370 ہٹانے کے بعد وادی میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ حکومت نے ریاست میں تمام طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ حکومت کے ذریعہ لگائی گئی پابندیوں کو ہٹانے سے متعلق داخل عرضیوں پر منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے ان پابندیوں کو ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ معاملہ حساس ہے اور حکومت کو کچھ مزید وقت ملنا چاہیے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ یہ کب تک چلے گا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیسے ہی حالات معمول پر آ جائیں گے، انتظام بھی پہلے جیسا ہو جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کو کم از کم پریشانی ہو۔ ساتھ ہی اٹارنی جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ 1999 سے تشدد کے سبب 44000 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا آپ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم روزانہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور لگاتار بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ امید ہے کہ کچھ دنوں میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی کو نہیں معلوم کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ حکومت پر اعتماد کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ بے حد حساس ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس حقیقی تصویر ہونی چاہیے، کچھ وقت کے لیے یہ معاملہ رکنا نہیں چاہیے۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اس سلسلے کی آئندہ سماعت دو ہفتہ بعد کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر تشکیل نو بل پاس ہونے کے بعد سے حکومت نے احتیاطاً پورے جموں اور سری نگر میں دفعہ 144 لگا رکھی ہے۔ وادی کشمیر میں سیکورٹی انتظامات کافی سخت ہیں۔ حکومت نے کئی علاقوں میں موبائل فون کنکشن اور انٹرنیٹ پر پابندی لگا رکھی ہے۔