جموں و کشمیر: انٹرنیٹ-موبائل خدمات بحالی کا مودی حکومت کا دعویٰ جھوٹ!

ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے 36 وزراء کشمیر دورہ پر ہیں اور اس معاملے میں ہندوستانی میڈیا میں ایسی تصویر پیش کی جا رہی ہے جیسے ریاست میں سب معمول پر ہے، حالانکہ ایسا کچھ نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اوما کانت لکھیڑا

جموں و کشمیر میں گزشتہ 160 دنوں سے بند موبائل انٹرنیٹ اور فون رابطہ بحال کرنے کی سپریم کورٹ کے حالیہ حکم اور پھٹکار کے باوجود اس سمت میں مودی حکومت کے دعوے محض لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے ہیں۔ جموں و کشمیر حکومت نے کہنے کو تو 153 ویب سائٹوں کو کچھ چنندہ اور حکومت کے کنٹرول والے مراکز پر انٹرنیٹ بحالی کے حکم صادر کر دیے ہیں۔ لیکن کسی بھی نئی ویب سائٹ کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ میڈیا کو اب بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ریاست کو آئین سے حاصل خصوصی اختیار والی دفعہ 370 ختم کرنے اور مکمل ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد مودی حکومت نے وہاں ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور لوگوں کے رد عمل کو دبانے و میڈیا پر پابندی لگانے کے لیے پوری ریاست میں موبائل، انٹرنیٹ اور بنیادی فون خدمات پوری طرح سے بند کر دی تھی۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود میڈیا سمیت تمام ضروری خدمات میں ہو رہی دقتوں کو دیکھتے ہوئے انٹرنیٹ اور دوسری مواصلاتی خدمات پر پابندی کو سپریم کورٹ میں چیلنج پیش کیا گیا تھا۔

جموں و کشمیر میں مواصلاتی خدمات پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے والی کشمیر ٹائمز کی مدیر انورادھا بھسین جاموال نے بات چیت میں کہا کہ انٹرنیٹ اور موبائل خدمات کی بحالی کے بارے میں حکومت کے دعووں اور زمینی حقیقت میں کوئی تال میل نہیں ہے۔ ریاست میں جس کچھوا چال اور ڈھلمل طریقے سے انٹرنیٹ اور فون خدمات کو بحال کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، اس سے لگتا نہیں کہ 2 سال سے پہلے حالات پہلے جیسی ہو سکے گی۔

جاموال نے بتایا کہ پہلے حکم آیا کہ جموں کے 5 اضلاع میں 2جی سروس شروع کر دیں گے لیکن سروس پوری طرح گڑبڑ ہیں۔ اس کے بعد دوسرا حکم آیا کہ انٹرنیٹ خدمات کو اور ضلعوں میں بھی بڑھایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ دونوں ہی خدمات ابھی بھی ٹھپ ہیں۔ کپواڑا اور ہندواڑا اضلاع کے گھروں مٰن بیسک فون خدمات شروع نہیں ہوئی ہیں۔ جہاں کچھ وقت کے لیے شروع کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، وہاں کچھ ہی منٹوں میں پورا مواصلاتی نظام جان بوجھ کر بند کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے کشمیر وادی کے 80 اسپتالوں میں انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کے حکم دیے تھے، لیکن اسپتال کے کچھ خاص کمروں میں ہی یہ خدمات مل پا رہی ہیں۔ کوئی مریض اگر اس کا استعمال کر بھی رہا ہے تو ڈاکٹروں کو علاج کے ساتھ یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مریضوں کی بیماری اور پوری تفصیلات رجسٹر میں لکھیں۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ بند انٹرنیٹ خدمات مریضوں اور ڈاکٹروں دونوں کے لیے ہی آفت بنی ہوئی ہیں۔

قابل غور ہے کہ ریاست میں میڈیا دفاتر اور صحافیوں کو انٹرنیٹ کی سہولت ضروری خدمات میں شامل نہیں کی گئی ہے۔ میڈیا کو اب بھی سرکاری میڈیا مراکز میں جا کر ہی انٹرنیٹ کی خدمات نصیب ہو پا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست میں جن ویب سائٹوں کو بحال کرنے کی باتیں کہی گئیں، ان میں زیادہ تر تعلیمی اداروں سے جڑے ویب سائٹس ہیں۔ ان کے علاوہ 11 تفریحی، 20 سفر، تین روزگار، ایک موسم اور چار آٹو موبائل سے متعلق ویب سائٹ ہیں۔

دوسری طرف جموں علاقہ میں موبائل انٹرنیٹ کو پرانی حالت میں لانے کے دعوے پوری طرح ناکام ہیں۔ راجوری، پونچھ میں بھی خدمات بند ہیں۔ ریاست کے ایک سینئر صحافی نے کہا کہ ہفتہ کو مودی حکومت کے 36 وزراء ریاست کے دورہ پر ہیں اور ملک کی ٹی وی میڈیا میں اس دورہ کو لے کر ایسی تصویر پیش کی جا رہی ہے جیسے حالات بالکل معمول پر ہیں۔ وزراء کے دوروں سے لوگوں کو گزشتہ پانچ ماہ میں ہوئی پریشانیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے، لیکن وادی اور جموں کے عام لوگوں کی دقتیں کہیں بھی کم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔