جموں و کشمیر: فاروق عبداللہ PSA کے تحت گرفتار، مودی حکومت کی ہو رہی تنقید

پی ایس اے کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر کسی مقدمہ کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ جس جگہ پر فاروق عبداللہ کو رکھا جائے گا اسے ایک حکم کے ذریعہ غیر مستقل جیل قرار دی گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو پیر کے روز پبلک سیکورٹی ایکٹ یعنی پی ایس اے کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، جس جگہ پر فاروق عبداللہ کو رکھا جائے گا اسے ایک حکم کے ذریعہ غیر مستقل جیل قرار دی گئی ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ پی ایس اے کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر کسی مقدمہ کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

پی ایس اے کے تحت فاروق عبداللہ کی گرفتاری کی خبر کے بعد مودی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں اور یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ آخر ابھی تک مرکزی حکومت اس بات سے انکار کیوں کر رہی تھی کہ فاروق عبداللہ کو نظر بند کیا گیا ہے۔ مشہور و معروف صحافی سیما چشتی نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں گزشتہ 6 اگست کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ذریعہ لوک سبھا میں دیئے گئے بیان کا تذکرہ ہے۔ ٹوئٹ میں سیما چشتی لکھتی ہیں کہ ’’وزیر داخلہ امت شاہ نے 6 اگست 2019 کو لوک سبھا میں کہا تھا کہ ’’میں یہ چوتھی مرتبہ کہہ رہا ہوں، اور میرے پاس یہ بات دس مرتبہ کہنے کا صبر موجود ہے کہ فاروق عبداللہ کو نظر بند نہیں کیا گیا اور نہ ہی انھیں حراست میں لیا گیا۔‘‘ اس ٹوئٹ کے ساتھ انھوں نے ایک خبر بھی ٹیگ کی ہے جس میں محکمہ داخلہ کے ذریعہ پی ایس اے کے تحت فاروق عبداللہ کی گرفتاری کی بات کہی گئی ہے۔

انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کی نیشنل ایڈیٹر سہاسنی حیدر نے بھی فاروق عبداللہ سے متعلق ایک ٹوئٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ حیران کرنے والی بات ہے کہ دفعہ 370 ختم کرنے اور فاروق عبداللہ و عمر عبداللہ کو نظر بند کرنے سے پہلے پی ایم مودی نے خود ان سے ملاقات کی تھی۔ اب حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ آخر پی ایس اے کے تحت انھیں خطرہ کیوں محسوس ہونے لگا۔‘‘ ایک دیگر ٹوئٹ میں سہاسنی حیدر نے لکھا ہے کہ ’’2000 میں جب فاروق عبداللہ وزیر اعلیٰ تھے تو انھوں نے این ڈی اے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اکیلے یہ آواز بلند کی تھی کہ جس میں جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو آزاد نہیں کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ 20 سال بعد اظہر پاکستان میں آزاد گھوم رہا ہے اور عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت این ڈی اے حکومت نے نظر بند کر دیا ہے۔‘‘

سری نگر سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ فاروق عبداللہ 5 اگست سے اپنے گھر میں نظر بند ہیں، جب حکومت ہند نے کشمیر کو خصوصی اختیار دینے والے آئین کی دفعہ 370 کو ختم کر دیا تھا۔ حال ہی میں نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمنٹ کو فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اس پابندی کے ساتھ کہ وہ ملاقات کے بعد میڈیا کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتے۔

جسٹس سنجیو کمار نے اراکین پارلیمنٹ جسٹس (سبکدوش) حسنین مسعودی (اننت ناگ) اور اکبر لون (بارہمولہ) کے ذریعہ داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے انھیں فاروق عبداللہ سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز مرکز اور جموں و کشمیر انتظامیہ کو نیشنل کانفرنس سربراہ کی نظربندی پر نوٹس بھی جاری کیا۔

واضح رہے کہ حراست کے دوران فاروق عبداللہ اپنے ہی گھر میں رہنے کو مجبور ہیں۔ انھیں اپنے کسی بھی دوست یا رشتہ دار سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عبداللہ کی گرفتاری کے سلسلے میں 15 دنوں کے اندر جواب مانگا ہے۔

غور طلب ہے کہ تقریباً 40 دن پہلے مرکزی حکومت نے کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے کئی بڑے لیڈروں کو سری نگر ائیر پورٹ سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔

Published: 16 Sep 2019, 2:10 PM