جموں: ڈوگرہ فرنٹ کا چین کے خلاف احتجاج، چینی مصنوعات نذر آتش

احتجاجی مظاہرین چین مخالف نعرے لگا رہے تھے اور چینی ساخت کی چیزوں جیسے موبائل سیٹوں وغیرہ کو آگ کے ڈھیر میں ڈال رہے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جموں: لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر چینی فوج کے حملے کے خلاف ڈوگرہ فرنٹ نے بدھ کے روز یہاں احتجاج درج کرتے ہوئے چینی مصنوعات کو نذر آتش کر دیا۔ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج چین کا جواب بلٹ سے دے گی اور ہم ویلٹ سے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے چین کو ختم کردیں گے۔

احتجاجی مظاہرین چین مخالف نعرے لگا رہے تھے اور چینی ساخت کی چیزوں جیسے موبائل سیٹوں وغیرہ کو آگ کے ڈھیر میں ڈال رہے تھے۔ اس موقع پر ایک احتجاجی نے میڈیا کو بتایا کہ ہم چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے چین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 'آج کا ہندوستان سال 1962 کا ہندوستان نہیں ہے۔ وہ (چین) جس سے فوج کو چلاتا ہے (نذر آتش ہو رہے چینی مصنوعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) ہم اسی کا بائیکاٹ کریں گے اور چین کو ختم کریں گے'۔


موصوف احتجاجی نے کہا کہ چین باقی ملکوں کو قرضہ دے کر ہندوستان کا گھیراؤ کر رہا ہے ہم جب بائیکاٹ کریں گے تو وہ کہاں سے پیسہ لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج ان کا بلٹ سے جواب دے گی اور ہم ویلٹ سے جواب دے کر اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیں گے۔

موصوف نے کہا کہ ہماری فوج کو دھوکہ میں لایا گیا اور پھر ان پر حملہ کیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ لداخ کی وادی گلوان میں چینی فوج کے حملے میں ایک کرنل سمیت کم سے کم بیس فوجی اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔