جموں فدائین حملہ: روہنگیا مسلمانوں کی جھونپڑیاں جلانے کی کوشش

فوجی کیمپ پر ہوئے حملہ میں 5 جوان شہید ہو گئے، گذشتہ روز ہوئےحملے میں بی جے پی کے رکن اسمبلی نے روہنگیا مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرایا تھا، نتیجہ میں کچھ شرپسند عناصر نے جھونپڑیاں جلانے کی کوشش کی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

جموں: سنجوان فوج کیمپ پر 10 فروری کو صبح ہوئے فدائین حملے میں اب تک پانچ جوان شہید ہو گئے ہیں اور فوج کی جانب سے جاری مہم میں چار دہشت گردوں کو ڈھیر کیا جا چکا ہے۔ اس حملے میں ایک شہری کی موت ہو گئی ہے اور 11 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

قابل غور ہے کہ جیش محمد کے دہشت گردوں نے ہفتہ کی صبح سنجوان فوجی ٹھکانے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد فوج نے ان کے صفائے کی مہم شروع کی تھی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
شہید فوجیوں کی یاد میں کینڈل جلاکر خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے عام لوگ 

پولس ذرائع نے بتایا کہ ابھی تک کم از کم پانچ جوان شہید ہو ئے ہیں اور ایک شہری کی موت ہو گئی ہے۔ اس حملے میں 11 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اب تک چار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور مہم اب بھی جاری ہے۔ پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا ہے اور ابھی ایک دہشت گرد کے چھپے ہونے کا شبہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر ہیں۔

روہنگیا کی جھونپڑیاں جلانے کی کوشش

جموں وکشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں کے مضافاتی علاقہ گاندھی نگر کے چھنی راما علاقہ میں گذشتہ رات کچھ شرارتی عناصر نے روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگی جھونپڑیوں کو مبینہ طور پر آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ان شرارتی عناصر نے جھونپڑیوں کی طرف کچھ پوسٹر بھی پھینکے ہیں جن پر لکھا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جائے۔ یہ شرارتی عناصرگاندھی نگر میں واقع سنجوان ملٹری اسٹیشن ( 36 بریگیڈ فوجی کیمپ) پر فدائین حملہ اور اسمبلی و اسمبلی کے باہر بھارتیہ جتنا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین کی روہنگیا مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان بازی کے پس منظر میں پیش آیا ہے۔ ایک سٹیزن جرنلسٹ نے اپنی ایک ویڈیو میں کہا کہ کچھ شرارتی عناصر چھنی راما میں واقع روہنگیا بستی میں آئے اور روہنگیا پناہ گزینوں کی جھگی جھونپڑیوں کو آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا ’جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پہلے سے ہی سازشیں چل رہی تھیں۔ لیکن جب سنجوان کیمپ پر حملہ ہوا تو بغیر کسی تحقیقات کے روہنگیا پناہ گزینوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ یہ سراسر غلط ہے۔ کیا جموں وکشمیر میں ہونے والے تمام حملے روہنگیا پناہ گزین کررہے ہیں؟‘۔ ویڈیو میں ایک بزرگ روہنگیائی رفوجی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ’موٹر سائیکل پر تین افراد یہاں آئے۔ ان میں سے ایک باہر کھڑا رہا جبکہ دو اندر گھس آئے۔ انہوں نے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے۔ ایک بندے نے تیل چھڑک دیا جبکہ دوسرے نے ماچس کی تیلی جلاکر اس پر پھینک دی۔ اس کے بعد تینوں موقع سے فوراً فرار ہوگئے۔ چہرے بند ہونے کی وجہ سے ہم انہیں پہچان نہیں پائے‘۔ ویڈیو میں ایک نوجوان روہنگیائی رفوجی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ’بستی کو آگ لگانے کی غرض سے آنے والے افراد کچھ پوسٹر چھوڑ کر چلے گئے‘۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔