لوک سبھا: جموں و کشمیر کو دو ٹکڑے کرنے والی قرارداد بحث کے لیے منظور

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 3 کے التزامات کے مطابق جموں و کشمیر تشکیل نوبل کو لوک سبھا میں غور کے لئے بھیجا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پیر کا دن جموں و کشمیر سے متعلق افرا تفری والا دن ثابت ہوا جب ریاست کو دو ٹکڑے میں کرنے کے لیے مودی حکومت نے اقدام کیے۔ راجیہ سبھا سے تو جموں و کشمیر تشکیل نو بل 61 کے مقابلے 125 ووٹوں سے بہ آسانی پاس بھی ہو گیا۔ دوسری طرف لوک سبھا میں اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور جموں و کشمیر و لداخ دونوں کو مرکزی علاقہ بنانے کے لئے جموں و کشمیر تشکیل نو بل لانے کی قرارداد پیش کر دی۔

لوک سبھا میں سروگیسی (ریگولیشن) بل ، 2019 کے منظور ہونے کے بعد اسپیکر اوم برلا نے وزیر داخلہ کا نام پکارا۔ اس کے ساتھ ہی ، اپوزیشن کے بہت سے رہنما اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور جموں و کشمیر سے متعلق مسٹر شاہ کے بلوں کی مخالفت کرنا شروع کردیا۔ اس پرمسٹر شاہ نے کہا کہ وہ آج صرف قرارداد پیش کررہے ہیں۔ یہ بل منگل کو آئے گا اور اپوزیشن کو بولنے کا پورا موقع ملے گا اور وہ بعد میں ان کا جواب دیں گے۔

مسٹر شاہ نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 3 کے التزامات کے مطابق جموں کشمیر تشکیل نوبل کو اس ایوان میں غور کے لئے بھیجا گیا ہے کیونکہ صدر کے 19 دسمبر 2018 کے آرڈیننس کی وجہ سے اس ایوان کے پاس ریاستی مقننہ کے اختیارات اس وقت موجود ہیں۔ یہ ایوان غور کے لئے اس بل کو قبول کرتا ہے۔ اس کے فورا ً ہی بعد اسپیکر نے قرارداد پر ووٹنگ کرائی اور اس قرارداد کو صوتی ووٹ سے غور کے لئے قبول کرلیا گیا۔