جموں وکشمیر: ملی ٹنسی مقدموں سے نمٹنے کے لئے نئی تحقیقاتی ایجنسی تشکیل دینے کے احکامات صادر

حکمنامے میں کہا گیا کہ سی آئی ڈی کا سربراہ ایس آئی اے کا ڈائریکٹر ہوگا اور وہ حکومت کی طرف سے وقفے وقفے سے تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔

کشمیری خواتین کے سامان کی تلاشی لیتی خاتون سیکورٹی اہلکار / یو این آئی
کشمیری خواتین کے سامان کی تلاشی لیتی خاتون سیکورٹی اہلکار / یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: ملی ٹنسی سے متعلق مقدموں سے موثر انداز سے نمٹنے کے لئے جموں وکشمیر حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے طرز پر اسٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) تشکیل دینے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے جاری ایک حکمنامے کے مطابق ایس آئی اے ایک نوڈل ایجنسی کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ملی ٹنسی سے متعلق کیسوں میں تیز رفتار اور موثر انداز میں تفتیش و قانونی کارروائی کرنے کے لئے این آئی اے اور دیگر مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کرے گی۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ اسٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی کے نام کے تحت اس خصوصی ایجنسی کی تشکیل کے لئے منظوری دی گئی ہے۔ یہ ایجنسی سی آئی ڈی اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے علاوہ تشکیل دی جائے گی۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ’تمام پولیس اسٹیشنوں کے انچارجز کے لئے لازمی ہے کہ وہ ملی ٹنسی سے متعلق مقدمے درج کرتے وقت ایس آئی اے کو فوری طور پر اس سلسلے میں مطلع کریں اور ان مقدموں کے بارے میں بھی اطلاع دیں جن میں تفتیش کے دوران ملی ٹنسی کے ساتھ رابطہ ہونے کے بارے میں جانکاری سامنے آجائے‘۔


’ایسے مقدمے جن کو تحقیقات کے لئے ایس آئی اے کے سپرد نہ کیا گیا ہو، کے بارے میں پولیس ہیڈ کوارٹر کو یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ وہ ان مقدموں کی تحقیقاتی پیش رفت کے متعلق باقاعدگی سے ترجیحی طور پر ہر پندرہ دنوں کے بعد ایس آئی اے کو مطلع کرتا رہے‘۔ حکمنامے کے مطابق ایس آئی اے ان مقدموں کی بھی تحقیقات کرے گی جن کو این آئی اے ایکٹ 2008 کے سیکشن 7 کے مطابق اسٹیٹ گورنمنٹ کو سپرد کیا گیا ہو۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ سی آئی ڈی کا سربراہ ایس آئی اے کا ڈائریکٹر ہوگا اور وہ حکومت کی طرف سے وقفے وقفے سے تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔ حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ ایس آئی اے میں تعینات ملازموں کے بنیادی تنخواہ میں 25 فیصدی اضافہ کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔