فاروق عبداللہ کی حراست کو چیلنج کریگی نیشنل کانفرنس

نیشنل کانفرنس نے پارٹی صدر اور تین بار ریاست کے وزیر اعلی رہے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی نظر بندی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں حال ہی میں تحفظ عامہ ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس نے پارٹی صدر اور تین بار ریاست کے وزیر اعلی رہے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی نظر بندی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں حال ہی میں تحفظ عامہ ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور بارہمولہ کپواڑہ باندی پورہ لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلمینٹ محمد اکبر لون نے کہا، ’’ہم ڈاکٹر عبد اللہ کو غیر قانونی طریقہ سے حراست میں لینے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے جنہیں 5 اگست کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔‘‘ مرکزی حکومت نے جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والی دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کر کے ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کردیاگیاتھا۔

ڈاکٹر عبداللہ کو ایسے وقت تحفظ عامہ قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جب ایم ڈی ایم کے کے سربراہ وائیکو نے سپریم کورٹ سے ڈاکٹر عبداللہ کو چنئی میں ایک پر امن اور جمہوری سالانہ پروگرام میں شرکت کی اجازت دینے کے لیے مرکزی حکومت کو ہدایت دینے کی درخواست کی۔ حالانکہ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں پچھلے ماہ بحث کے دوران لوک سبھا کو بتایاتھا کہ سری نگر ۔بڈگام، گندر بل انتخابی حلقہ کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر عبداللہ کو نہ تو حراست میں لیا گیا اور نہ گھر پر نظر بند کیا گیا۔

امت شاہ نے مزید کہا، ’’ڈاکٹر عبداللہ کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم کسی کو بندوق کی نوک پر پارلیمنٹ میں نہیں لاسکتے اور وہ اپنے گھر میں آرام کر رہے ہونگے۔‘‘

ڈاکٹر عبداللہ کو پہلے گھر میں نظر بندرکھنے اور بعد میں پی ایس اے کے تحت گرفتار کرنے پر مختلف قومی اور علاقائی پارٹیوں نے سخت ردعمل ظاہر کیاہے۔

ڈاکٹر عبداللہ کی رہائش گاہ کو جیل میں تبدیل کردیاگیاہے اور انکے گھر کے باہر بڑی تعداد میں سلامتی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
لون نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے سری نگر کے ضلع مجسٹریٹ کو ایک خط لکھ کر یہ اطلاع مانگی ہے کہ کس بنیاد پر صدر ڈاکٹر عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا، ’’میں اننت ناگ انتخابی حلقہ کے ایک دیگر رکن پارلیمنٹ جسٹس (ریٹائر) حسنین مسعودی کے ساتھ منگل کو اس سلسلہ میں ضلع مجسٹریٹ کے دفتر سری نگر گیا تھا۔ چونکہ ضلع مجسٹریٹ اس وقت وہاں نہیں تھے اور انھوں نے اس خط کو ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ سری نگر کو پیش کیا۔ ہم نے ڈاکٹر عبداللہ کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں جاننا چاہا ہے۔‘‘

لون نے مزید کہا کہ رپورٹ ملنے کے بعد وہ قانونی ٹیم کے ساتھ بات کریں گے اور معاملہ کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ڈاکٹر عبداللہ کی نظربندی کوختم کرنے کے لیے عدالت میں عرضی دائر کریں گے۔ انھوں نے این سی کے صدر کی حراست کو شرمناک اور انتہائی افسوسناک قرار دیا۔