جموں و کشمیر: حدبندی کمیشن کے خلاف احتجاج سے قبل لیڈرشپ کی نظربندی پر نیشنل کانفرنس ناراض

علی محمد ساگر اور ناصر اسلم وانی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ایک جمہوری ملک میں آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن کشمیر میں جمہوری حقوق کو سلب کر کے تاناشاہی راج کا ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں حکومت کی طرف سے پارٹی لیڈران کو گھروں میں نظر بند کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیرمیں جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور کسی کو بھی حق کی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری ملک میں آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن کشمیر میں حکمران ان جمہوری حقوق کو سلب کرکے تاناشاہی راج کا برملا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پارلیمنٹ سے لیکر راج بھون تک جموں وکشمیرمیں جمہوریت کی مضبوطی اور تعمیر و ترقی کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر جمہوری اصولوں کی دھجیاں اُڑائیں جا رہی ہیں۔


انہوں نے کہا کہ سال بھر سے ملک بھر میں آزادی کا مہا اتسو منایا جا رہا ہے لیکن جموں وکشمیر میں 5 اگست 2019 سے نہ جمہوریت ہے، نہ آزاد صحافت اور نہ ہی اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔ اُن کے مطابق گُڈ گورننس کے دعوے کرنے والوں نے عوام کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔

دونوں لیڈران نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حدبندی کمیشن کی سفارشات کو یکسر مسترد کرتی ہے اور اس عمل پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ پارٹی لیڈران نے پُرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔