جموں و کشمیر: ریاسی میں 'ہائبرڈ ملی ٹینٹ' گرفتار، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد، پولیس

ایس ایس پی ریاسی امت گپتا نے اس کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ملی ٹنٹ ظفر اقبال ملی ٹنٹ تنظیموں کے ساتھ رابطے میں تھا اور اس کی گرفتاری سے ایک بڑی ملی ٹنٹ کارروائی کو ٹالا گیا۔

ظفر اقبال، تصویر یو این آئی
ظفر اقبال، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

جموں: پولیس نے جموں وکشمیر کے ضلع ریاسی میں ایک ہائی برڈ ملی ٹنٹ کو گرفتار کرکے اس کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ایک اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ظفر اقبال ولد کریم بخش ساکن بال انگرالہ نامی ایک شخص کو گرفتار کیا جو پاکستانی ملی ٹنٹ ہینڈلرس کے ساتھ رابطے میں تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’گرفتار شدہ ہائی برڈ ملی ٹنٹ کا بھائی محمد اسحاق لشکر طیبہ سے وابستہ ملی ٹنٹ تھا جس کو راجوری میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں مارا گیا تھا جبکہ اطلاعات کے مطابق اس کا ایک رشتہ دار عبدالرشید ساکن لادھ پاکستان میں ہے اور وہاں ملی ٹنٹؤں کے ساتھ کام کر رہا ہے‘۔ موصوف ترجمان نے کہا کہ پولیس کی ایک ٹیم نے ظفر اقبال کو پلاسو نولہ علاقے سے گرفتار کرکے اس کی پوچھ تاچھ کی۔


انہوں نے کہا کہ دوران پوچھ تاچھ ظفر اقبال نے ملی ٹنٹوں کے ساتھ رابطہ ہونے کے بارے میں اور جرائم انجام دینے کے بارے میں اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار شدہ کے انکشاف پر پولیس، فوج کی 58 آر آر اور سی آر پی ایف کی 126  بٹالین کی ایک مشترکہ ٹیم نے انگرالہ جنگل میں ایک آپریشن شروع کر دیا جس دوران ایک کمین گاہ سے اسلحہ و گولہ باردو بر آمد کیا گیا۔ بر آمد شدہ اسلحہ و گولہ بارود میں ایک پستول (گلاک)، چار پستول میگزین، 22 گولیاں اور ایک گرینیڈ شامل ہے۔

پولیس ترجمان نے کہا کہ ظفر اقبال کے انکشاف پر ایک لاکھ 81 ہزار روپیے نقدی بھی بر آمد کی گئی ہے جس کو ملی ٹنسی سے متعلق سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنا تھا۔ دریں اثنا ایس ایس پی ریاسی امت گپتا نے اس کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ملی ٹنٹ ظفر اقبال ملی ٹنٹ تنظیموں کے ساتھ رابطے میں تھا اور اس کی گرفتاری سے ایک بڑی ملی ٹنٹ کارروائی کو ٹالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہینڈلرس جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی کو فروغ دینے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔