قومی

کشمیر: کمسن بچی کی آبرو ریزی پر ہائی کورٹ کا از خود نوٹس، جمعہ تک رپورٹ طلب

ریاستی پولس نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو واقعے کی تحقیقات میں جٹ گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: جموں کشمیر ہائی کورٹ نے شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے ملک پورہ ترہگام سمبل میں 8 مئی کوایک کمسن بچی کی آبرو ریزی کے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کشمیر زون پولس کے آئی جی سوئم پرکاش پانی سے جمعہ تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

بتادیں کہ کمسن بچی کے دل دہلانے والے آبرو ریزی کے واقعے کے خلاف وادی بھر میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ قصوروار کو فوری طور تختہ دار پر لٹکانے کا پُر زور مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس جسٹس گیتا متل اور جسٹس تاشی رابستان پر مشتمل ہائی کورٹ کی ڈویژنل بنچ نے بدھ کے روز سینئر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بشیر احمد ڈار کے ذریعے ریاستی پولس کو یہ ہدایات جاری کیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایسے بھیانک واقعات کو سختی سے نمٹنا ہے اور بچوں کو ایسے وحشت ناک واقعات سے محفوظ رکھنا ہے۔

سرکاری وکیل بشیر احمد ڈار نے کہا کہ وہ شام تک کیس کے متعلق تمام پیش رفتوں کو چیک کرکے کورٹ کو اس حوالے سے مطلع کریں گے۔ ریاستی پولس نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو واقعے کی تحقیقات میں جٹ گئی ہے۔

وادی کی سیاسی، مذہبی اور مزاحمتی جماعتوں نے اس انسانیت سوز واقعہ کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور قصوروار کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی ہے۔ ایس ایس پی بانڈی پورہ راہل ملک نے لوگوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کی اصل عمر کا پتہ لگانے کے لئے سائنسی طریقہ کار استعمال کیا جائے گا۔

صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ امن، آپسی بھائی چارے اور امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سمبل واقعہ کی تحقیقات تیز تر بنیادوں پر کی جاری ہے اور وہ ذاتی طور پر اس کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ تحقیقات کے عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ شمالی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولس محمد سلیمان چودھری نے کہا کہ سمبل میں 8 مئی کو پیش آئے تین سالہ بچی کی آبرو ریزی کے معاملے کی تحقیقات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔