جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد پہلے 15 اگست پر سیکورٹی انتہائی سخت

جموں و کشمیر میں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد وادی میں بڑی تعداد میں سیکورٹی فورس بھیجا گیا تھا جو اب بھی یاست میں تعینات ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد وادی میں کشیدگی کے ماحول کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی بہت سخت ہے۔ 15 اگست کے مدنظر وادی میں سیکورٹی کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور چپہ چپہ پر سیکورٹی فورسز نہ صرف تعینات ہیں بلکہ وہ مستعد بھی ہیں۔ کشمیر میں کچھ علاقوں میں دفعہ 144 نافذ ہے جب کہ کئی حساس علاقوں میں کرفیو بھی لگایا گیا ہے۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ وادی میں دہشت گرد خطرناک واقعہ کو انجام دینے کی کوشش میں ہیں۔ جب سے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹایا گیا ہے، وادی میں سیکورٹی سخت ہے۔ ریاست میں ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ جیسی چیزوں پر پابندی بھی عائد ہے۔

موجودہ حالات پر ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا ہے کہ 15 اگست کے بعد ریاست میں لگی پابندیوں میں دھیرے دھیرے ڈھیل دی جائے گی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے 10 دنوں کے اندر وادی کی حالت کافی حد تک ٹھیک ہو جائے گی۔

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد وادی میں حالات کشیدہ ہیں۔ اس سلسلے میں کئی طرح کے سوالات بھی لگاتار اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت لگاتار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ جموں و کشمیر میں امن و امان ہے تو دوسری طرف کئی میڈیا رپورٹس یہ انکشاف کر رہے ہیں کہ کشمیر میں دفعہ 370 ہٹنے کے بعد کئی جگہوں پر تشدد ہوئے۔

وادی میں ماحول کشیدہ ہونے سے متعلق خبریں بھی شائع ہوئی ہیں۔ گزشتہ دنوں میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ جمعہ کی نماز کے بعد پتھر بازی ہوئی تھی اور پولس کی طرف سے فائرنگ کی گئی تھی۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت نے شروع میں تشدد کی خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔ لیکن اب حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیر میں تشدد ہوا ہے۔ وزارت داخلہ نے مانا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد کشمیر میں پتھر بازی ہوئی تھی، لیکن پولس نے کوئی فائرنگ نہیں کی تھی۔ وزارت داخلہ کی ترجمان کی جانب سے جاری ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ "میڈیا میں سری نگر کے سورا علاقے میں تشدد کے واقعہ کی خبریں آئی ہیں۔ 9 اگست کو کچھ لوگ مقامی مسجد سے نماز کے بعد لوٹ رہے تھے۔ ان کے ساتھ کچھ پرتشدد لوگ بھی تھے۔ بدامنی پھیلانے کے لیے ان لوگوں نے بغیر کسی اُکساوے کے سیکورٹی فورسز پر پتھر بازی کی۔ لیکن سیکورٹی فورسز نے صبر سے کام لیا اور نظامِ قانون بنائے رکھنے کی کوشش کی۔"

وادی میں موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی گئی ہے۔ غور طلب ہے کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد وادی میں بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو بھیجا گیا تھا جو اب بھی وادی میں ہی تعینات ہے۔