جموں و کشمیر: کانگریس کا ایندھن اور اشیائے خوردنی کی مہنگائی کے خلاف احتجاج

کانگریس پارٹی نے جمعے کے روز جموں وکشمیر میں بھی ایندھن اور اشیائے خوردنی کی مہنگائی کے خلاف علامتی احتجاج درج کیا

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
تصویر بشکریہ ٹوئٹر
user

یو این آئی

جموں: کانگریس پارٹی نے جمعے کے روز جموں وکشمیر میں بھی ایندھن اور اشیائے خوردنی کی مہنگائی کے خلاف علامتی احتجاج درج کیا۔پارٹی نے جمعہ کے روز ایندھن اور اشیائے خوردنی کی مہنگائی کے خلاف ملک گیر علامتی احتجاج درج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جموں میں علامتی احتجاج درج کرنے کے موقع پر جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پٹرول کی قیمت چالیس روپیے فی لیٹر ہونی چاہئے تھی جو آج سو روپیے فی لیٹر ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف پارٹی ملک گیر علامتی احتجاج درج کررہی ہے تاکہ مودی سرکار جاگ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف لوگ کورونا وبا سے پریشان ہیں تو دوسری طرف مہنگائی نے ان کا جینا حرام کر دیا ہے۔ موصوف صدر نے کہا کہ ملک کے غریبوں سے پیسہ لوٹا جا رہا ہے لیکن ملک میں نہ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو آکسیجن اور ویکسین فراہم کئے جار ہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ٹیکسوں میں بھی نرمی لائے۔ اس موقع پر ایک اور لیڈر رمن بھلہ نے کہا کہ ملک میں اشیائے خوردنی کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پرانے دن ہی واپس چاہئے۔ضلع راجوری میں بھی کانگریس کے کارکنوں نے علامتی احتجاج درج کیا۔احتجاجی موجودہ سرکاری کے خلاف جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔