جموں و کشمیر: لیونڈر کاشتکاروں کی انتظامیہ سے ٹیکنالوجی متعارف کرنے کی اپیل

جموں و کشمیر کے ڈوڈہ اور کشتواڑ کے لیونڈر (نیاز بو) پھول کاشتکاروں نے یونین ٹیریٹری انتظامیہ سے لیونڈر پھولوں کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے پالیسیاں مرتب کرنے اور ٹیکنالوجی کو متعارف کرنے کی اپیل کی ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

جموں: جموں وکشمیر کے پہاڑی اضلاع ڈوڈہ اور کشتواڑ کے لیونڈر (نیاز بو) پھول کاشتکاروں نے یونین ٹریٹری انتظامیہ سے لیونڈر پھولوں کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے پالیسیاں مرتب کرنے اور ٹیکنالوجی کو متعارف کرنے کی اپیل کی ہے۔ بتادیں کہ لیونڈر پھولوں سے تیل نکالا جاتا ہے جو کاسمیٹک مصنوعات اور کچھ ادویات تیار کرنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

ہے کہ مرکزی حکومت کے اروما مشن کے تحت یہ غیر روایتی کاشتکاری کر کے ہم وزیر اعظم نریندر مودی کے 'آتم نربھر بھارت' کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا کے کہ لیونڈر پھول پودے سال میں ایک بار لگائے جاتے ہیں اور 12 پھر سے 15 برسوں تک پھول دیتے ہیں۔

محکمہ پھول بانی کے ایک ماہر نے یو این آئی کو بتایا کہ لیونڈر پھولوں کو پوری طرح کھلنے میں 8 سے 12 ماہ لگ جاتے ہیں اور کشتواڑ اور ڈوڈوہ کے علاقے ان کی کاشت کے لئے بہترین ہیں کیونکہ یہاں موسم سرد رہتا ہے جو ان کے لئے موزوں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیونڈر یورپ سے درآمد کیا جاتا ہے اور یہاں پہاڑی علاقوں میں اگایا جاتا ہے۔

موصوف نے کہا کہ اگر حکومت اس کی کاشت کی طرف توجہ دے گی تو کاشتکاروں کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان پھولوں سے ہم یہاں تیل تیار کرتے ہیں جو بازار میں 9 سے 10 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس تیل سے مختلف قسموں کے مصنوعات تیار کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا تو یہ ایک بہت بڑی انڈسٹری بن سکتی ہے جس سے بے شمار لوگوں کو روز گار مل سکتا ہے۔ موصوف ماہر نے کہا کہ اس پھول سے شہد بھی بنائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ڈوڈہ میں 26 ہیکٹر اور کشتواڑ میں قریب 5 ہیکٹر اراضی پر لیونڈر پھول کاشت کئے جارہے ہیں۔

next