جموں و کشمیر: محرّم سے قبل کرفیو جیسے حالات، خوفزدہ حکومت نے لگائیں کئی پابندیاں!

درمیان صرف ایمرجنسی طبی خدمات کے لیے لوگوں کو بیریکیڈ پار کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے متعلقہ افسروں کے ذریعہ جاری کرفیو پاس پر بھی لوگوں کو جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے 35 دن بعد ایک بار پھر وادی میں کرفیو جیسے حالات نظر آ رہے ہیں۔ وادی میں دوبارہ سخت پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ خبروں کے مطابق محرم کا جلوس نکالنے سے روکنے کے لیے سری نگر سمیت ریاست بھر کے الگ الگ حصوں میں اتوار سے کرفیو جیسی پابندی لگائی گئی ہیں۔

افسران کے مطابق سری نگر کے لال چوک سے کمرشیل مراکز اور آس پاس کے علاقوں کے سبھی داخلی مقامات پر تار بندی کی گئی ہے، علاقے کو پوری طرح سے سیل کر دیا گیا ہے۔ منگل کو محرم ہے۔ محرم سے ٹھیک دو دن پہلے اس طرح کی پابندی لگائی گئی ہے۔ حالانکہ افسران یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ آخر اچانک سے وادی میں اتنی پابندی کیوں لگا دی گئی ہے۔ افسران کا صرف اتنا کہنا ہے کہ نظامِ قانون کو بنائے رکھنے کے لیے اس طرح کے قدم اٹھائے گئے ہیں۔

غور طلب ہے کہ محرم کے موقع پر جلوس نکالا جاتا ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ افسران کو اندیشہ ہے کہ بڑے مذہبی اجتماع سے تشدد برپا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں منگل کو وادی میں محروم کے موقع پر جلوس نکالے جانے سے پہلے ہی اس طرح کی سخت پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

افسران کے مطابق پابندی کے درمیان صرف ایمرجنسی طبی خدمات کے لیے ہی لوگوں کو بیریکیڈ پار کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے متعلقہ افسروں کے ذریعہ جاری کرفیو پاسوں پر بھی لوگوں کو جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس سے قبل دفعہ 370 کی زیادہ تر سہولتوں کو ختم کرنے اور ریاست کو دو مرکز کے ماتحت ریاستوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے اعلان کے بعد وادی میں پہلی بار 5 اگست کو پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ حالانکہ دھیرے دھیرے حالات میں بہتری کو دیکھتے ہوئے وادی کے کئی حصوں سے پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔ اس درمیان گزشتہ تقریباً 35 دنوں سے وادی میں جاری بند کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

Published: 9 Sep 2019, 2:10 PM