قومی

کشمیر کے مغل باغات کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دلانے کی تیاری

میٹنگ کے دوران خورشید گنائی نے ڈی پی آر تیار کرنے کے لئے مرکزی حکومت کی امداد طلب کی تا کہ اس پروجیکٹ کو عالمی فورم (یونیسکو) کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سرینگر: جموں وکشمیر کی گورنر انتظامیہ نے مغل باغات کو بطور ورلڈ ہیری ٹیج مقامات (عالمی ثقافی ورثہ) قرار دینے کے لئے مرکزی امداد طلب کی ہے۔اس سلسلے میں جمعہ کو یہاں گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی اور وزارت تمدن کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری نیروپما کوترو کے درمیان میٹنگ منعقد ہوئی۔

میٹنگ کے دوران خورشید گنائی نے ڈی پی آر تیار کرنے کے لئے مرکزی حکومت کی امداد طلب کی تا کہ اس پروجیکٹ کو عالمی فورم (یونیسکو) کے سامنے پیش کیا جا سکے اور مغل باغات (جن میں شالیمار، نشاط، اچھہ بل، ویری ناگ شامل ہیں) کو ورلڈ ہیری ٹیج سائٹس قرارد یا جائے۔ ریاستی حکومت نے اودہم پور، بسوہلی، پہلگام، گریز اور کرگل میں عجائب گھروں کو کھولنے کیلئے بھی امداد طلب کی ہے۔

میٹنگ کے دوران مشیر موصوف نے جموں اور سری نگر میں سائنس سٹی کم میوزیم قائم کرنے کا معاملہ بھیُ اُبھارا۔ اس مطالبے کے رد عمل میں جوائنٹ سیکرٹری نے ریاستی حکومت کو مرکز کی طرف سے بھرپور امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی بشرطیکہ کہ اس مقصد کے لئے مناسب اراضی کا انتظام کیا جائے۔

مشیر موصوف نے آرکیالوجیکل سائٹس کے بہتر رکھ رکھاؤ کے لئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی امداد بھی طلب کی۔ میٹنگ کے دوران جوائنٹ سیکرٹری نے ریاستی حکومت پر زو ردیا کہ وہ ایس پی ایس میوزیم اور ڈوگرہ میوزیم میں موجود آرٹیفیکٹس کو ڈیجیٹائز کرنے کے لئے ڈی پی آر پیش کریں۔

میٹنگ میں نجی افراد سے آرٹیفیکٹس کی خرید کے لئے حکومت کی طرف سے اقدامات کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تا کہ پہلے سے موجود عجائب گھروں کو ان قیمتی آرٹیفیکٹس سے رونق دوبالا ہوسکے۔ کمشنر سیکرٹری تمدن محمد سلیم شیشگر، ڈائریکٹر آرکائیوز، آرکیالوجی اور میوزیمز مُنیر الاسلام و دیگر متعلقہ افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔