جموں و کشمیر: اُڑی کے کمل کوٹ میں ایل او سی کے قریب زوردار دھماکہ، 2 فوجی جوان شہید
کنٹرول لائن کے بہت حساس علاقے کمل کوٹ میں دھماکے کی واردات ہوئی ہے۔ ایسے علاقے میں اکثر بارودی سرنگوں یا پرانے ہتھیاروں کا خطرہ رہتا ہے، دھماکے کی حقیقی نوعیت اور وجوہات کی جانچ فی الحال جاری ہے۔

جموں و کشمیر میں اُڑی کے کمل کوٹ واقع کنٹرول لائن (ایل او سی) کے پاس ہوئے ایک دھماکے میں سنگین طور سے زخمی فوج کے 2 جوانوں نے دم توڑ دیا۔ یہ افسوسناک واردات اس وقت ہوئی جب فوجی اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دھماکہ کے فوری بعد دونوں جوانوں کو نازک حالت میں سری نگر کے بادامی باغ واقع 92 بیس اسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی حتی المقدور کوششیں کیں، لیکن کامیابی نہیں ملی۔ ان کے زخم اتنے شدید تھے کہ تمام کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہیں جا سکا۔ اس افسوسناک واردات سے ہندوستانی فوج کے ساتھ متاثرہ خاندانوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کمل کوٹ انتہائی حساس علاقہ ہے۔ ایسے علاقے میں اکثر بارودی سرنگوں یا پرانے ہتھیاروں کا خطرہ رہتا ہے۔ دھماکے کی حقیقی نوعیت اور وجوہات کی جانچ فی الحال جاری ہے۔ فوج کے افسر واردات کے مختلف پہلوؤں کی جانچ کر رہے ہیں۔ ایسے واقعات کنٹرول لائن پر تعینات جوانوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہتے ہیں۔ شہید ہوئے جوانوں کی شناخت مہاراشٹر کے ایرولی باشندہ چوان وکرم بال کرشن اور مہاراشٹر کے ہی ستارا باشندہ ارجن جادھو راجندر کی شکل میں ہوئی ہے۔ دونوں جوان 8 قومی رائفلس سے وابستہ تھے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں بارہمولہ، کپواڑہ اور باندی پورہ اضلاع سے ہوکر تقریباً 740 کلو میٹر طویل ایل او سی گزرتی ہے۔ وہیں جموں ڈویزن میں ایل او سی پونچھ، راجوری اور جزوی طور سے جموں ضلع میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی تقریباً 240 کلو میٹر لمبی بین لاقوامی سرحد سامبا، جموں اور کٹھوا اضلاع سے ہو کر گزرتی ہے۔ ایل او سی کی سیکورٹی ہندوستانی فوج کرتی ہے جبکہ بی الاقوامی سرحد کی حفاظت بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ذمہ ہے۔ سرحد پار سے دراندازی، اسمگلنگ اور ڈرون سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے دونوں فورس سرحدی علاقوں میں تعینات رہتی ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
