اختلاف کے باوجود جمعیۃ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، امت شاہ سے ملاقات کے بعد محمود مدنی کا بیان

ہندوستانی مسلمانوں کی سرکردہ تنظیم جمعیۃ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ حکومت کی کچھ پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود ان کے لئے قومی مفادات سب سے اوپر ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستانی مسلمانوں کی سرکردہ تنظیم جمعیۃ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ حکومت کی کچھ پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود ان کے لئے قومی مفادات سب سے اوپر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ ملک کے اتحاد کو مضبوط بنانے میں آگے بڑھ کر کام کیا ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند کے ساتھ کئی مسلم تنظیموں نے ہفتہ کو یہاں وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی اور ملک اور خاص طور پر مسلم کمیونٹی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال۔ جمعیۃ کی جانب سے جاری بیان میں محمود مدنی نے کہا کہ کچھ معاملات پر حکومت کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے لیکن قومی مفاد کے ایشوز پر جمعیۃ ہمیشہ حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ مسلم تنظیموں نے ملک بھر میں این آر سی اور غیر قانونی سرگرمی روک تھام ترمیم قانون (يواےپي اے) جیسے دیگر ایشوز پر اپنے خدشات کا وزیر داخلہ کے سامنے اٹھایا۔
محمود مدنی کے مطابق امت شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ مسلمانوں کو کسی بھی طرح سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا لیکن گھس پیٹھیوں کے لئے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹاناکشمیر کے لوگوں کے مفاد میں ہے۔ آرٹیکل 370 سے کشمیر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا تھا۔ امت شاہ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے وادی میں افواہ پھیلا کر امن و امان ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے موبائل سروسز کو بند رکھا گیا ہے۔

بیان کے مطابق امت شاہ نے کہا کہ این آرسي کو لے کر مسلمانوں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ گھس پیٹھئے ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں لہذاان کے خلاف کارروائی میں کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ يواےپي اے قانون کا کسی بھی طرح سے غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔ امت شاہ کے ساتھ ملاقات کے دوران جمعیت علمائے ہند کے قومی صدر مولانا قاری محمد عثمان منصورپوري، جمعیت اہل حدیث ہند کے سربراہ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی سمیت دیگر تنظیموں کے سربراہ موجود تھے۔

قابل غور ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے حال ہی میں ایک تجویز پاس کر کےکہا تھا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور تمام کشمیری ہمارے ہم وطن ہیں۔ کوئی بھی علیحدگی پسند تحریک نہ صرف ملک کے لئے بلکہ کشمیریوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ خیال رہے اس سے قبل جمعیت علمائے ہند کے دوسرے دھڑے کے صدر مولانا ارشد مدنی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سے یہاں ملاقات کر کےملک میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    Published: 22 Sep 2019, 11:10 AM