مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند کا بھوپال میں اہم اجلاس، لو جہاد، اسلاموفوبیا، وقف ایکٹ اور یکساں سول کوڈ پر اہم تجاویز منظور
مولانا محمود اسعد مدنی نے واضح کیا کہ ’’اسلام کے نزدیک ’جہادِ اکبر‘ انسان کے اندر کی برائی، حرص، لالچ، غصے اور نفس کی بغاوت سے لڑنے کا نام ہے، جو ہر زمانے میں سب سے بڑی جدوجہد ہے۔‘‘

نئی دہلی 29 نومبر 2025: جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کا اجلاس آج برکت اللہ ایجوکیشن کیمپس بھوپال میں صدرِ جمعیۃ مولانا محمود اسعد مدنی کی صدارت میں شروع ہوا، جس میں وقف ترمیمی ایکٹ ، اسلاموفوبیا، مفروضہ لو جہاد، دینی مدارس کے تحفظ، اسلامی ماحول میں عصری تعلیم، یکساں سول کوڈ اور فلسطین میں جاری نسل کشی جیسے اہم مسائل پرواضح موقف پیش کیا گیا ۔اجلاس میں ملک بھر سے 15 سو ارکان مجلس منتظمہ نے شرکت کی۔
صبح کی پہلی نشست میں اپنے کلیدی صدارتی خطاب میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ’’ملک کی موجودہ صورت حال انتہائی حساس اور فکر انگیز ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک خاص طبقے کی بالادستی اور دوسرے طبقوں کو قانونی طور پر بے بس، سماجی طور پر علیحدہ اور معاشی طور پر بے عزت، رسوا اور محروم بنانے کے لیے معاشی بائیکاٹ، بلڈوزر ایکشن، ماب لنچنگ، مسلم اوقاف کی سبوتاژی، دینی مدارس اور اسلامی شعائر کے خلاف منفی مہم کی باقاعدہ اور منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘
مولانا مدنی نے کنورژن لاء کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کے آئین نے ہمیں اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس قانون میں ترمیم کے ذریعہ اس بنیادی حق کو ختم کیا جارہا ہے۔ اس قانون کو اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ مذہب کی تبلیغ کا عمل جرم اور سزا کا سبب بن جائے۔ دوسری طرف’ گھر واپسی کے نام پر‘ ہندو دھرم میں شامل کرنے والوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ ان پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا، نہ ہی کوئی قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک خاص مذہبی سمت کی طرف سماج کو دھکیلا جارہا ہے۔
مولانا مدنی نے ’لو جہاد‘ جیسے من گھڑت فتنے پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن عناصر نے جہاد جیسی مقدس دینی اصطلاح کو گالی اور تشدد کا ہم معنی بنا دیا ہے، اور لو جہاد، لینڈ جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد جیسے جملوں کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام اور ان کے مذہب کی توہین کی جارہی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ حکومت اور میڈیا کے بعض ذمہ دار بھی ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام میں جہاد ایک مقدس فریضہ ہے، جس کا مقصد ظلم کا خاتمہ، انسانیت کی حفاظت اور امن کا قیام ہے، اور قتال کی صورت بھی ظلم و فساد روکنے کے لیے ہی مشروع ہے۔ مگر یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جہاد کوئی انفرادی یا نجی اقدام نہیں، بلکہ صرف ایک با اختیار اور منظم ریاست ہی شرعی اصولوں کے مطابق اس کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری و سیکولر ملک ہے جہاں اسلامی ریاست کا تصور موجود نہیں، اس لیے یہاں جہاد کے نام پر کوئی بحث ہی نہیں۔ مسلمان آئینی طور پر پابند ہیں اور حکومت شہری حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ مولانا مدنی نے واضح کیا کہ اسلام کے نزدیک ’جہادِ اکبر‘ انسان کے اندر کی برائی، حرص، لالچ، غصے اور نفس کی بغاوت سے لڑنے کا نام ہے، جو ہر زمانے میں سب سے بڑی جدوجہد ہے۔
مولانا مدنی نے گرو تیغ بہادر کی 350 ویں شہادت دیوس کے موقع پر یک جہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ مغل دور میں گرو صاحب کے کم سن صاحبزادگان کا قتل ظلم و نا انصافی پر مبنی تھا۔ یہ سانحہ ہماری اجتماعی اخلاقی قدروں اور انصاف کے اصولوں سے کسی طرح میل نہیں کھاتا۔ اسی کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مغلوں کی حکومت کو اسلامی حکومت قرار دینا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ مغل دورِ حکومت میں جو جنگیں ہوئیں، وہ مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ زیادہ تر سیاسی اقتدار سے متعلق تھیں۔ انہوں نے جہاں غیر مسلموں، سکھوں اور مختلف مقامی طاقتوں کے ساتھ لڑائیاں لڑیں، وہیں خود مسلم حکمرانوں کے ساتھ بھی سخت معرکے کیے اور انہیں سزائیں بھی دیں۔ مولانا مدنی نے اس موقع پر عدلیہ کے کردارپر بھی سوال اٹھا یا اور کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت تک ہی سپریم کہلانے کا مستحق ہے جب تک آئین کی پابندی کرے، قانون کے حقوق کا خیال رکھے، اگر ایسا نہ کرے تو وہ اخلاقی طور پر سپریم کہلانے کا حق دار نہیں۔
مولا مدنی نے نوجوانوں کے بارے میں کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، اس لیے ان کی سوچ اور طرزِ عمل قوم کے مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر واقعی ہمیں اپنے مستقبل کی مضبوط تعمیر کرنی ہے، تو نوجوانوں کو انفرادیت کے دائرے سے نکال کر اجتماعیت اور ٹیم ورک کے میدان میں لانا ہوگا۔
اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے تزکیہ نفس پر خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ ہمارا اصل مقصد دین ہے۔ ہم اپنی نسلوں کی حفاظت اور دین کے تحفظ کے لیے جمعیۃ سے وابستہ ہیں، اور کسی بھی کام کی کامیابی اخلاص پر موقوف ہے، جبکہ اخلاص کی بنیاد نیت کے درست ہونے پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ تصوف کی ابتدا ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات‘‘سے سے ہوتی ہے، اور اس کی انتہا یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو اللہ ربّ العزت کے سپرد کردے، اور اس کی عبادت میں ایسی کیفیت جلوہ گر ہو کہ گویا وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہے، یا کم از کم یہ احساس غالب ہو کہ اللہ تواسے دیکھ ہی رہا ہے۔
مولانا محمد سلمان بجنوری، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند و استاذ دارالعلوم دیوبند نے کہا کہ ایمان سب سے بڑی نعمت ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دی جاسکتی ہے۔ اسی مقصد سے اسلامی ماحول والے اسکولوں کا قیام ناگزیر ہو گیا ہے، ورنہ ہماری نسلیں فکری و اعتقادی انحراف کی شکار ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے مدرسوں پر لگنے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مخالفین کو دعوت دی کہ وہ خود مدارس کا دورہ کریں، کیونکہ یہ ادارے کھلی کتاب کی طرح شفاف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستانی مسلمان کبھی ملک دشمن عناصر کے ساتھ نہ تھے اور نہ ہوں گے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک سے محبت اپنے دین کی تعلیم کے مطابق کرتے ہیں، اور جو شخص جتنا اچھا مسلمان ہوگا، وہ اتنی ہی زیادہ اپنے وطن سے محبت کرے گا۔
ان کے علاوہ مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری استاذ دارالعلوم دیوبند نے دینی تعلیم کی اہمیت پر بلیغ خطاب کیا ، مفتی افتخار قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک، مولانا عبداللہ معروفی استاذ رارالعلوم دیوبند ،مولانا امین الحق عبداللہ ناظم اعلی جمعیۃ علماء یوپی، مولانا عبدالقوی نائب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ ، مفتی اشفاق قاضی ممبئی، مولانا ندیم صدیقی مہاراشٹر، مولانا ساجد فلاحی، مفتی عبدالرزاق امروہوی، مولانا یحییٰ کریمی کا بھی الگ الگ عنوانوں پر خطاب ہوا۔ مولانا نیاز احمد فاروقی نے سالانہ بجٹ پیش کیا۔
پہلی نشست میں پروفیسر سید نعمان شاہ جہاں پوری نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی نے مدارسِ اسلامیہ کے تحفظ اور اسلامی ماحول میں عصری اسکولوں کے قیام سے متعلق تجویز، مولانا محمد عاقل قاسمی صدر جمعیۃ علماء مغربی یوپی نے ملک میں بڑھتی ہوئی منافرت اور اسلاموفوبیا کے انسداد، مولانامفتی شمس الدین بجلی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء کرناٹک نے لو جہاد کے مفروضے، مفتی جاوید اقبال قاسمی صدر جمعیۃ علماء بہار نے فلسطین کی الم ناک صورت حال، مولانا محمد ابراہیم، صدر جمعیۃ علماء کیرالہ نے یکساں سول کوڈ اور مولانا عبدالقادر نے آسام کی صورتِ حال اور ایس آر پر اور حاجی محمد ہارون صدرجمعیۃ علماء مدھیہ پردیش نے وقف ایکٹ سے متعلق سے تجاویز پیش کیں۔
ازیں قبل مولانا صدیق اللہ چودھری نے تحریکِ صدارت پیش کی، جس کی تائید مفتی احمد دیولہ (صدر جمعیۃ علماء گجرات)، مولانا علی حسن مظاہری (صدر جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب) اور قاضی عبدالماجد (صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش) نے کی۔ حاجی محمد ہارون، صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سکریٹری رپورٹ اور تین سالہ کارکردگی کا جامع خلاصہ پیش کیا۔ انھوں نے تجویز تعزیت بھی پیش کی۔
آج کے اجلاس میں بہتر کارکردگی کی بنیاد پر بطورِ حوصلہ افزائی تین صوبوں جمعیۃ علماء مغربی یوپی زون، جمعیۃ علماء آسام اور جمعیۃ علماء ناگالینڈ کو شیخ الہند ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ اسی طرح ممبرسازی، یونٹ سازی، اصلاحِ معاشرہ اور دینی تعلیمات میں نمایاں کارکردگیوں کی بنیاد پر گیارہ اضلاع بجنور (یوپی) مرشدآباد (مغربی بنگال)، ہریدوار (اتراکھنڈ) ہیلاکنڈی (آسام) کشن گنج (بہار) سپاہی جالا (تری پورہ)بنگلور(کرناٹک) ہوجائی، دیماپور(آسام ) جہان آباد( بہار) اور سیتا پور و مئو ( یوپی) کو شیخ الاسلام ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مجلسِ منتظمہ میں جمعیۃ علماء ہند کے دو نائبین صدر کے طور پر مولانا محمد سلمان بجنوری (استاذ دارالعلوم دیوبند) اور قاری محمد امین پوکرن جبکہ بطورِ خازن قاری محمد شوکت علی ویٹ منتخب ہوئے۔
اجلاس میں مولانا محمد یاسین جہازی کی مرتب کردہ کتاب جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ: تجاویز اور فیصلے کی چوتھی جلد کا افتتاح صدرِ جمعیۃ علماء ہند اور دیگر معزز اراکین کے ہاتھوں انجام پایا، ا سی طرح صدر جمعیۃ علماء ہند کے ہاتھوں دینی تعلیمی بورڈ کے ایپ کا افتتاح بھی عمل میں آیا جس کا مختصر تعارف مولانا محمد عمر بنگلوری نے پیش کیا۔ اجلاس میں شاعرِ اسلام قاری احسان محسن نے نعتِ پاک پیش کی، جب کہ جمعیۃ کا ترانہ مولانا امین الحق عبداللہ نے پیش کیا۔ اس اجلاس کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی رہی کہ اس میں سوال و جواب کا خصوصی سیشن رکھا گیا، جس میں مولانا محمود اسعد مدنی، مولانا محمد سلمان بجنوری اور مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سوالات کے جوابات دیئے۔ اجلاس میں نظامت کے فرائض مولانا محمد حکیم الدین قاسمی اور مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔ دوسری نشست دیر تک جاری رہے گی ۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔